ریاست میں سیلابی صورتحال لیکن مانجرا ڈیم مکمل خشک

   

سنگور پراجکٹ میں بھی برائے نام پانی ، بوندا باندی زراعت کیلئے مفید لیکن ذخائر آب کیلئے ناکافی

سنگاریڈی : تلنگانہ میں گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ دریاے گوداوری اور کرشنا پر تعمیر کردہ پراجکٹس لبریز ہو رہے ہیں۔ اضلاع کے تالاب اور کنٹہ بھی پر ہوچکے ہیں۔ ورنگل میں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ ضلع سدی پیٹ میں دو افراد پانی کے تیز بھاو میں بہہ گئے۔ ہزارہا ایکر اراضی پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔ حکومت نے حکام کو چوکس رہنے کے احکام جاری کئے۔ ریاست کے باقی اضلاع کی طرح ضلع سنگاریڈی میں گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارش ہو رہی ہے ،یہ بوندا باندی اور جھڑی کی شکل میں ہے جو ذراعت اور زیر زمین سطح آب میں اضافہ کے لیے بہت مفید ہے لیکن ذخائر آب لبریز کرنے کافی نھیں ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ اضلاع سنگاریڈی’ میدک و سدی پیٹ کو پینے کاپانی سربراہ کرنے والے ضلع سنگاریڈی میں واقع دو اہم پراجکٹس مانجیرا ڈیم اور سنگور میں پانی جمع نھیں ہوا۔ مانجیرا ڈیم مکمل خشک ہو چکا ہے۔شہر سنگاریڈی کے دامن میں واقع مانجیرا ڈیم کی مکمل سطح آب 1452 فیٹ ہے اور اس میں 1.5 ٹی ایم سی پانی ذخیرہ اندوز کرنے کی گنجائش ہے۔ آج 20 اگست کی دوپہر اس کی اقل ترین سطح آب 1432 فیٹ ہے اور پانی اس سطح تک بھی نھیں پہنچا ہے۔ مانجیرا ڈیم کی سطح زمین اور جنگلی جھاڑیاں واضع نظر آرہے ہیں اور پانی نھیں کے برابر ہے۔ جو بھی معمولی سا پانی ہے وہ بھی حالیہ بارش میں آس پاس کے علاقوں سے بہ کر آیا ہے۔ سنگور پراجکٹ کا بھی یہی حال ہے۔ سنگور پراجکٹ کی مکمل سطح آب 523.60 میٹر اور 29.91 ٹی ایم سی پانی کی گنجائش ہے۔ آج اس میں پانی 2.4 ٹی ایم سی ریکارڈ کیا گیا جو ڈیڈ اسٹوریج سے کم ہے۔ جون میں محض آدھا ٹی ایم سی بھی کم پانی تھا اور گذشتہ 70 دنوں میں صرف 2 ٹی ایم سی پانی جمع ہوا ہے اور وہ بھی آس پاس کے علاقوں سے ہی آیا ہے۔ سنگور اور مانجیرا ڈیم دریاے مانجیرا پر تعمیر کردہ ہیں۔ دریاے گوداوری کے طاس سے ذیلی ندی مانجیرا مہاراشٹرا کے بالا گھاٹ سے نکلتی ہے اور مہاراشٹرا کے اضلاع بیڑ’ عثمان آباد اور لاتور کے علاوہ کرناٹک کے ضلع بیدر سے گذر کر تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی میں داخل ہوتی ہے اور پھر ضلع میدک سے ہوکر ضلع نظام آباد میں کندا کرتی مقام پر دوبارہ دریاے گوداوری میں ضم ہو جاتی ہے۔ دریاے مانجیرا کا آبگیر علاقہ مہاراشٹرا اور کرناٹک میں زیادہ ہے وہاں پر زیادہ بارش ہونے اور وہاں کے پراجکٹس لبریز ہونے پر ہی سنگور کو پانی آتا ہے اور سنگور سے مانجیرا ڈیم کو چھوڑا جاتا ہے۔ گذشتہ 3سال سے دریا مانجیرا میں پانی کی کمی کی وجہ سے مانجیرا خشک اور سنگور ڈیڈ اسٹوریج صورتحال سے دوچار ہے اور امسال موسم باراں میں بھی تاحال یہی صورتحال ہے۔ تاہم آبپاشی عہدیداروں نے پراجکٹس میں جلد ہی پانی آنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ جاریہ موسم باراں میں ضلع سنگاریڈی میں ماہ جون سے اب تک 47 دن بارش ہوء اور جملہ 559 میلی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو اوسط” 473 میلی میٹر بارش سے 18 فیصد زائد ہے اس کے باوجود ضلع کے بیشتر تالاب ابھی لبریز نہیں ہوئے ۔