دیڑھ سال بعد باضابطہ نماز عید کی ادائیگی ، عوام کو سنت ابراہیمی ؑ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین ، مولانا جعفر پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں عید الاضحی خشوع و خضوع کے ساتھ منائی گئی اور شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے کئی اضلاع میں دو برس بعد عید گاہو ںمیں نماز عید ادا کی گئی لیکن مسلسل بارش کے سبب دونوں شہروں اور اضلاع کی بعض عید گاہوں میں نماز کا اہتمام نہیں کیا گیا بلکہ جامع مسجد میں نمازوں کے اہتمام کو وسیع کردیا گیا ۔ عید گاہ میر عالم پر عید الاضحی کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں مصلیوں نے نماز عید ادا کی جس کی امامت مولانا حافظ محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے کی اور خطبہ دیا۔ قبل ازیں مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ نے فضائل عید الاضحی بیان کرتے ہوئے عامۃ المسلمین کو سنت ابراہیمی ؑ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جذبۂ ایثار و قربانی پیدا کرتے ہوئے دوسروں کی مدد اور اللہ کی راہ میں ہر شئے کی قربانی کو یقینی بنانے کی صفات پیدا کرنا بے انتہاء ضروری ہے۔مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ نوجوانوں میں پھیل رہی بے راہ روی کو دور کرنے کے لئے انہیں حضرت اسمعیل ؑ کے آداب فرزندی سے واقف کروایا جانا ضروری ہے اور اولاد کی تربیت اور حکم الہی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے جذبہ کو پیدا کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جیسا ایمان و یقین پیدا کیا جائے۔ انہوں نے امت مسلمہ کو حلال و حرام کی تمیز کرنے اور بے جا اسراف سے محفوظ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکو راضی کرنے کیلئے ان کے احکام کی اتباع کرنا ضروری ہے ۔ مولانا جعفر پاشاہ نے حب رسول ﷺ اور احکام الہی کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول ہیں جن کے ذریعہ زندگی کی ہر مشکل کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محمد رضوان قریشی نے خطبۂ عید کے دوران عالم اسلام میں امن و امان کی برقراری کے علاوہ کورونا وائرس وباء سے نجات کے لئے خصوصی دعاء کی ۔ انہوں نے بعد نماز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو برسوں کے دوران تین عیدین پر عید گاہ میر عالم کے علاوہ کسی بھی عیدگاہ میں عید کا اجتماع نہیں ہوسکا تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ صورتحال معمول پر آرہی ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حفظان صحت کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہئے ۔ عید گاہ میں نماز عید کی نگرانی کے لئے خود کوتوال شہر مسٹر انجنی کمار موجود تھے اور حسب روایت انہوں نے نماز عید کے بعد مصلیوں سے ملاقات کرتے ہوئے عید کی مبارکباد پیش کی لیکن مصافحہ اور بغلگیر ہونے سے اجتناب کیا گیا۔ دونوں شہروں کی کئی مساجد و عید گاہوں میں بارش کے باوجود نماز عید الاضحی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ منائی گئی اور بڑی تعداد میں مصلیوں نے کورونا وائرس کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے نماز عید کی ادائیگی کو یقینی بنایا۔ شہر میں بعض مقامات پر جہاں عید سے ایک یوم قبل نماز عید کے انتظامات کئے گئے تھے وہاں سے بھی قریبی فنکشن ہالس یا مساجد میں نماز ادا کی گئی اور کھلے مقامات پر نماز کے اہتمام سے گریزکیا گیا ۔ علمائے اکرام نے مصلیوں کو اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گذارنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ باطل قوتوں سے مقابلہ کیلئے اور ظالم کو روکنے کیلئے نوجوانوں کو صحت مند رہنے کے علاوہ طاقتور بننے پر توجہ دینی چاہئے لیکن کمزور پر طاقت کے مظاہرہ سے دین اسلام نے منع فرمایا ہے اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے ۔