ٰاٹھ کہ بزم جہاں کا انداز اور ہے
مسلمانوں کو متحد کرنے کی ضرورت ۔ حکومت کے حامیوں کی اہمیت و وقعت میں کمی
حیدرآباد 15 جون(سیاست نیوز) مسلم سیاسی ‘ سماجی ‘ مذہبی ‘ غیرسرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں اور فعال قائدین کو فوری متحرک ہوکر ریاست میں مسلم ووٹرس کو متحد کرنے اور انہیں کسی ایک جماعت کا ساتھ دینے آمادہ کرنے کے اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں میں سیاسی شعور اجاگر کرکے انہیں اپنے سیاسی ‘ مسلکی ‘ و آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے اور کرناٹک کے مسلمانوں کی طرح اپنے اتحاد کے ذریعہ فرقہ پرستوں کے خاتمہ اور انہیں زمینی سطح پر شکست دینے کی تیاری کرنی چاہئے۔کرناٹک انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کے حوصلوں میں نمایاں کمزوری نظر آرہی ہے اور اس کا فائدہ اٹھاکر تمام ریاستوں بالخصوص تلنگانہ و آندھراپردیش میں مسلمانوں کے اتحاد کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو بی جے پی اور اس کی مدد کرنے والی تمام جماعتو ںکو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے لیکن انتخابات کے اعلان سے قبل اپنے طور پر رائے عامہ ہموار کرنے ایک پلیٹ فارم ضروری ہے کیونکہ اب تک جن پلیٹ فارمس سے ملت کی سیاسی رہبری کی کوششیں کی گئی ہیں ان پر سے عوام کا اعتماد ختم ہونے لگا ہے ۔ گذشتہ 9 برسوں میں حکومت کی مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کے باوجود مسلم تنظیموں اور سیاستدانوں کی خاموشی پر ہر گوشہ سے حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ 2014 کے بعد سے اب تک نمائندگیوں میں ناکامی سے وہ قائدین اپنی اہمیت و وقعت کھوتے جا رہے ہیں۔بعض مسلم ذمہ داران جو قانون ساز کونسل کی نشست پر اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں وہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کرنے اور درمیانی پالیسی اختیار کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تین سرکردہ مسلم نام ایم ایل سی کی دوڑ میں آگے ہیں جن میں ایک سابق صدرنشین وقف بورڈ ‘ اور ایک مذہبی تنظیم کے دو اہم قائدین بشمول سابق امیر شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تو برسراقتدار بھارت راشٹر سمیتی کی تائید کرنے والی تنظیموں کے ذمہ دار اور قائدین ریاست کے موجودہ حالات اور مسلمانوں کے مسائل پر حکومت کے رویہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں مسلمانوں سے حکومت کے رویہ سے بیشتر مسلم تنظیمیں ناراض ہیں لیکن گورنر کوٹہ میں موجود ایم ایل سی نشست پر انتخاب کی آس میں کئی تنظیموں کے ذمہ دار اپنے موقف کے اظہار سے گریز کر رہے ہیں اور حکومت اس صورتحال سے واقف ہے اسی لئے دونوں مخلوعہ نشستوں پر فوری نامزدگی سے گریز کرکے انتخابات تک اس کو ٹالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ایم ایل سی نشست کیلئے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے نام کو قطعیت دے دی ہے لیکن فوری اس کا اعلان کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔م