ریاست میں نئی شیرازہ بندی کے آغاز کا امکان

   

آر ٹی سی کی ہڑتال سے تلنگانہ جے اے سی کے احیاء کی راہ ہموار ، /9 اکٹوبر کو اجلاس
حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیاست نیوز) حصول تلنگانہ کیلئے تشکیل جوائنٹ یکشن کمیٹی کا احیاء ہونے جا رہا ہے!تلنگانہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال نے ریاست میں نئی سیاسی شیرازہ بندی شروع کردی ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد نظر انداز کئے جانے والے تحریک تلنگانہ کے قائد پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی کی زیر صدارت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس کا اعلان کرکے تمام سیاسی جماعتو ںکو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ریاست میں آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف جمہوری انداز میں جدوجہد کا آغاز کیا جاسکے ۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر چیف منسٹر کی جانب سے زائد از 48ہزار ملازمین کو برطرف کئے جانے کے فیصلہ کے بعد آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ دیگر سرکاری ملازمین نے اظہار یگانگت شروع کردیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چند یوم میں ملازمین کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین کو محکمہ برقی‘ محکمہ آبرسانی ‘ محکمہ تعلیم کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے ملازمین کی بھی تائید حاصل ہوگی کیونکہ ریاست کے بیشتر محکمہ جات کے ملازمین حکومت کی پالیسی سے ناراض ہیں اور حکومت کے فیصلوں کو مخالف ملازمین اور مخالف عوام قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کے خلاف 6 برس کے دوران جو ناراضگی پیدا ہوئی اس پر احتجاج کرنے کوئی جماعت مستحکم طریقہ سے جدوجہد کے موقف میں نہیں تھی لیکن اب جبکہ آر ٹی سی ملازمین نے ہڑتال کا آغاز کردیا ہے اور ہڑتال کامیابی کے ساتھ جاری ہے تو حکومت کے خلاف ماحول تیا رہونے لگا ہے اور اب تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس 9 اکٹوبر کو طلب کیا گیا ہے ۔

اجلاس کی صدارت پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی کرنے والے ہیں۔ اجلاس میں شرکت کیلئے تمام جماعتوں کو مدعو کیا جا رہا ہے اور ان سے خواہش کی گئی کہ وہ جے اے سی کے احیاء میں تعاون کرکے مشترکہ جدوجہد کو مستحکم کریں۔2014میں حصول تلنگانہ سے قبل تحریک میں سرگرم حصہ لینے والوں کو نظر انداز کرکے مخالفین تلنگانہ کو قریب کرنے پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی نے حصول تلنگانہ سے قبل پروفیسر کوڈنڈا رام کو ’تلنگانہ گاندھی ‘ کے طور پر پیش کرکے طلبہ و سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی مکمل تائید حاصل کی تھی لیکن حصول تلنگانہ کے بعد مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تحریک تلنگانہ کی مخالفت کرنے والوں کو اپنی حکومت اور پارٹی میں جگہ فراہم کرتے ہوئے حقیقی جدوجہد کرنے والوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع کردیا تھا ۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے ساتھ حکومت نے جو سخت فیصلے کرتے ہوئے آر ٹی سی کی نئی پالیسی کا اعلان کیا ان فیصلوں نے ریاست میں موجود بکھری ہوئی اپوزیشن اور عملی طور پر ختم ہوچکی تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احیاء کی راہ فراہم کرنی شروع کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے جانے والے ان فیصلوں کے خلاف جے اے سی کے اجلاس کے بعد احتجاج میں شدت پیدا کئے جانے کا خدشہ ہے۔