ہر 100 میں 30 تا 40 جوڑے مسئلہ کا شکار ، سرکاری ہاسپٹلس میں IVF سنٹرس قائم کرنے کی تیاریاں
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ ریاست میں بچوں کی پیدائش نوجوان شادی شدہ جوڑوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے ۔ ہر 100 جوڑوں میں سے 30 تا 40 جوڑوں کو کسی نہ کسی سطح پر بانجھ پن کا مسئلہ درپیش ہے ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بانجھ پن کے علاج کی سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑے خانگی ہاسپٹلس کا رخ کررہے ہیں ۔ جہاں پر لاکھوں روپئے فیس وصول کرنے کی وجہ سے کئی جوڑے ذہنی اور مالی طور پر پریشان ہیں ۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ طرز زندگی میں تبدیلی مردوں اور خواتین دونوں میں بانجھ پن کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے ۔ بچے پیدا نہ ہونے سے نئے جوڑے ذہنی اذیت سے گذر رہے ہیں ۔ اس مسئلہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سابق بی آر ایس حکومت نے 2017 میں سرکاری ہاسپٹلس میں فرٹیلیٹی سنٹرس قائم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم 2023 تک صرف گاندھی ہاسپٹل میں ہی ایک فرٹیلیٹی سنٹر قائم کیا گیا تھا لیکن اس میں سہولیات فراہم نہیں کئے گئے ۔ ایک ماہ قبل ریاستی وزیر صحت دامودھر راج نرسمہا نے گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کیا اور فرٹیلیٹی سنٹر کی کارکردگی پر عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا ۔ عہدیداروں کی رپورٹ کی بنیاد پر انہوں نے ایمبریولوجسٹ کے تقرر کے علاوہ دیگر ضروری آلات اور ادویات خریدنے کی ہدایت دی ۔ مسئلہ کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست بھر میں فرٹیلیٹی اور IVF خدمات دستیاب کرانے کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے حکومت کا یہ فیصلہ بانجھ پن کے شکار جوڑوں کے لیے ایک طرح کی خوشخبری ہے ۔ کئی جوڑے IVF مراکز کا سہارا لیتے ہیں اور بچوں کی پیدائش کے لیے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں ۔ فرٹیلیٹی علاج کے نام پر خصوصی پیاکیجس کے نام پر متاثرین سے لاکھوں روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ دراصل IVF علاج کے لیے 50 سے 80 ہزار روپئے کے اخراجات ہیں ۔ خانگی مراکز کی جانب سے 3 تا 6 لاکھ روپئے وصول کررہے ہیں ۔ بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود نصف سے زیادہ لوگ نتائج سے محروم ہیں ۔ لیکن خانگی ہاسپٹلس بڑے پیمانے کی تشہیر کرتے ہوئے بے اولاد جوڑوں کو دھوکہ دیتے ہوئے لاکھوں روپئے بٹور رہے ہیں ۔۔ 2