ریاست میں نئے میڈیکل کالجس کا قیام مشکلات سے دوچار

   

نیشنل میڈیکل کونسل کا ہر 10 لاکھ آبادی کے لیے 100 نشستوں پر مشتمل میڈیکل کالج کو منظوری دینے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 31 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر حکومت نے طبی شعبہ کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے ۔ کورونا بحران کے بعد شعبہ طب کو مزید زیادہ ترقی دیتے ہوئے ریاست کے ہر ضلع میں ایک گورنمنٹ میڈیکل کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 33 کے منجملہ 25 اضلاع میں میڈیکل کالج قائم کیے گئے ۔ مزید 8 میڈیکل کالجس قائم کرنے کی کابینہ میں منظوری دے دی گئی ہے ۔ تاہم نیشنل میڈیکل کونسل کی جانب سے 16 اگست کو جاری کردہ نئے قواعد حکومت کے فیصلے پر پانی پھیرنے جیسے ثابت ہورہے ہیں جس کے بعد ریاست میں نئے میڈیکل کالجس قائم ہونا مشکل ہوگیا ہے ۔ نیشنل میڈیکل کونسل نے اپنے تازہ احکامات میں آبادی کے تناسب سے میڈیکل نشست کو جوڑ دیا ہے ۔ ہر 10 لاکھ آبادی کے لیے 100 ایم بی بی ایس نشستوں پر مشتمل میڈیکل کالج کو منظوری دینے کا اعلان کیا ہے ۔ سرکاری مردم شماری کے مطابق تلنگانہ کی آبادی 3,51,93,978 کروڑ ہے ۔ ریاست میں سرکاری و خانگی جملہ 56 میڈیکل کالجس ہیں جن میں 8340 ایم بی بی ایس نشستیں ہیں ۔ جس کے مطابق تلنگانہ کے ہر 10 لاکھ آبادی کے لیے 234 ایم بی بی ایس کی نشستیں ہیں ۔ فی الحال تلنگانہ ریاست ملک میں ہر 10 لاکھ آبادی کے لحاظ سے زیادہ ایم بی بی ایس نشستیں رکھنے والی ریاست ہے ۔ نیشنل میڈیکل کونسل کے تازہ قواعد کے مطابق ریاست میں 2.5 گنا زیادہ ایم بی بی ایس کی نشستیں ہیں ۔ تلنگانہ حکومت آئندہ سال مزید 8 میڈیکل کالجس قائم کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔ جس میں نیشنل میڈیکل کونسل کے نئے قواعد رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ ریاست کیرالا نے ( این ایم سی ) کے تازہ قواعد پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس پر دوبارہ نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔۔ ن