کابینی سب کمیٹی کی فنی امور کمیٹی کی رائے ۔ چیف منسٹر نے وزیر عمارات و شوارع کے ساتھ جائزہ لیا
حیدرآباد 5 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام) موجودہ سیکریٹریٹ عمارت کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی عصری سہولتوں سے لیس عمارت ممکن نہیں ہے اس لئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ انتہائی عصری اسٹیٹ آف آرٹ سیکریٹریٹ کامپلکس کی تعمیر پر غور کرے ۔ یہ رائے ایک ٹکنیکل کمیٹی کی ہے ۔ ریاست میں نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے حکومت کی جانب سے ایک کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ اس کمیٹی نے ایک ٹکنیکل کمیٹی چار انجینئرس ان چیف پر مبنی تشکیل دی تھی تاکہ وہ سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارت میں دستیاب سہولتوں اور دیگر امور کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کرے ۔ کہا گیا ہے کہ ٹکنیکل کمیٹی نے موجودہ عمارت کے استعمال اور اس میں دستیاب سہولیات سے استفادہ وغیرہ کا جائزہ بھی لیا تھا ۔اس کمیٹی کی جانب سے ڈائرکٹر جنرل ڈیزاسٹر ریسپانس اور فائر سروسیس کے علاوہ انڈین گرین بلڈنگ کونسل کی رپورٹ بھی حاصل کرلی تھی۔ تمام تفصیلا ت کا جائزہ لینے کے بعد ٹکنیکل کمیٹی نے اس خیال کا اظہار کیا کہ موجودہ عمارت کو استعمال کرنا شائد ممکن نہ رہے اور اس عمارت میں انتہائی عصری اور اسٹیٹ آف آرٹ سہولیات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ ایسے میں ریاستی حکومت کو ایک مثالی ‘ شاندار اور عصری سیکریٹریٹ کامپلکس کی تعمیر پر غور کرنا چاہئے ۔ اس کامپلکس میں فائر سیفٹی ‘ این بی سی اور آئی جی بی سی قوانین اور رہنما خطوط کی پابندی بھی کی جانی چاہئے ۔ کابینی سب کمیٹی کا ایک اجلاس 28 اگسٹ کو منعقد ہوا تھا جس میں ٹکنیکل کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں کابینی سب کمیٹی نے بھی نئی سیکریٹریٹ عمارت کی تعمیر پر ٹکنیکل کمیٹی کی سفارشات سے اتفاق کیا ہے ۔ ٹکنیکل کمیٹی نے چار دن قبل اپنی رپورٹ پیش کی تھی ۔ جمعرات کو رات میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے اس مسئلہ پر وزیر عمارات و شوارع پرشانت ریڈی کے ساتھ غور و خوض کیا ۔
