ریاست میں ویکسینیشن ہنوز سست رفتاری سے جاری

   

حیدرآباد :۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مفت ویکسینس فراہم کرنے کے اعلان کے بعد بھی ریاست تلنگانہ میں کوویڈ ویکسینیشن اسی سست رفتاری کے ساتھ جاری ہے ۔ مرکزی حکومت نے اس میں تیزی لانے کے لیے 21 جون سے ریاستوں کو 75 فیصد ویکسینس فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ محکمہ صحت کا ادعا ہے کہ اس کی جانب سے دستیاب اسٹاک سے ایک دن میں تقریبا 1.5 لاکھ ٹیکے دئیے جارہے ہیں اور مرکز سے کوئی تازہ اسٹاکس ہنوز موصول نہیں ہوئے ہیں ۔ عہدیداروں کے مطابق مرکزی حکومت کے پاس آبادی کی تمام تفصیلات ہیں اور اس کے مطابق مرحلہ واری انداز میں اسٹاک روانہ کررہی ہے ۔ تلنگانہ کو ایک مہینہ میں 20 لاکھ ڈوزس وصول ہورہے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 22 جون تک 93,25,254 لوگوں نے ویکسین لیا ہے ۔ ان میں 57,90,220 کی عمر 45 سال اور اس سے زائد ہے ۔ جب کہ 27,22,911 کی عمر 18 تا 44 سال کے درمیان ہے ۔ محکمہ کے مطابق اگر ویکسینیشن ڈرائیو اسی دھیمی رفتار سے چلتا رہے تو ریاست کے عوام تک پہنچنے میں برسوں لگ جائیں گے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر جی سرینواس راؤ نے دعویٰ کیا کہ اگر ریاست کو بروقت اسٹاک فراہم کیا گیا تو ریاست کے عوام تین مہینوں کے اندر ویکسین حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہمارے یہاں ایک دن میں دس لاکھ ویکسین دینے کے انتظامات ہیں لیکن بدقسمتی سے آسانی سے ویکسینس حاصل ہونے کی کوئی علامات دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو ہماری ضرورت کو اس بات کے لیے مورد الزام ٹہرا رہے ہیں کہ ریاستوں کو بڑی تعداد میں ویکسینس فراہم کرنے وزیراعظم کے اعلان کے بعد بھی ریاستی حکومت کی جانب سے لوگوں کو ویکسین نہیں دیا جارہا ہے ۔ دوسری لہر کے بعد لوگ ویکسینیشن کے بارے میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور محکمہ کی جانب سے مرکزی حکومت کو ایک ماہ قبل آگاہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے مطابق مرکز کی جانب سے اسٹاک روانہ کئے جاتے ہیں ۔ ہم اگست تک اضافی ویکسینس کے وصول ہونے کی امید کررہے ہیں ‘ ۔ ویکسین حاصل کرنے کیلئے بے چینی سے انتظار کرنے والے لوگ فکر مند ہیں اور وہ ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد کئے جانے والے ویکسینیشن ڈرائیوز میں سرگرم حصہ لے رہے ہیں ۔ اس دوران وزارت داخلہ نے کہا کہ اسے ویکسین کی بہتر انداز میں سربراہی کیلئے ایک مہینہ درکار ہوگا کیوں کہ صرف دو مینوفکچررس ہی حکومت کو ویکسین سپلائی کررہے ہیں ۔ وزیر کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں کو ان کے مطلوبہ ویکسینس کی سربراہی مشکل ہے ۔۔