انڈیا ٹو ڈے ۔ سی ووٹر کا سروے
فوری لوک سبھا انتخابات کی صورت میں بی جے پی کو دو نشستوں کا فائدہ ہوسکتا ہے
حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں وسط مدتی انتخابات کے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں اور کہا یہ جارہا ہ یکہ عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر مقررہ وقت تک انتظار نہیں کریں گے بلکہ قبل از وقت الیکشن کرالیں گے۔ بی جے پی ریاست میں ٹی آر ایس کی متبادل بننے بڑے پیمانے پر سیاسی سرگرمیاں چلاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہیکہ ریاست میں جب بھی انتخابات ہوں گے، بی جے پی کو حکومت تشکیل کیلئے واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ ریونت ریڈی کو پردیش کانگریس کا صدر بنانے کے بعد ابتداء میں بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرامس کئے گئے۔ اضلاع میں کامیاب جلسوں کا انعقاد کرکے کانگریس بھی اقتدار کی دوڑ میں رہنے کا ثبوت دیا گیا مگر کانگریس پھر گروپ بندیاں اور آپسی اختلافات کا شکار ہوگئی، جس کے بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی سے ناراض ہوکر کانگریس میں شمولیت کے خواہاں قائدین اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان حالات کے دوران انڈیا ٹوڈے، سی ووٹر کے ’موڈ آف دی نیشن سروے میں واضح ہوگیا کہ ٹی آر ایس کو اقتدار سے فی الحال بیدخل کرنے کے آثار نہیں ہے۔ فوری پارلیمنٹ انتخابات ہوتے ہیں تو بی جے پی کو صرف 2 نشستوں کا فائدہ ہوگا۔ تلنگانہ میں اس کی تعداد 4 سے بڑھ کر 6 ہوجائیگی۔ مجلس کی نشست برقرار رہے گی۔ حکمران ٹی آر ایس و کانگریس کو ایک ایک نشست کا نقصان ہوگا۔ اس سروے میں جہاں بی جے پی کو دو نشستوں کا فائدہ ہوا وہیں کانگریس ایک نشست سے محروم ہورہی ہے۔ دو پر کانگریس کی کامیابی دکھائی گئی۔ ٹی آر ایس کی 9 نشستیں ہیں جس میں ایک نشست کا نقصان ہورہا ہے۔ن