عہدیداروں کو چیف منسٹر کی ہدایت، کورونا وباء پراجکٹس کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بن سکتی
حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ مشن بھگیرتا کے عہدیداروں سے بہتر تال میل رکھیں تاکہ آبپاشی پراجکٹس میں پانی کی سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں پینے کے پانی کی سربراہی کی کوئی قلت نہیں ہونی چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سری رام ساگر پراجکٹ کی بحالی کے ذریعہ پانی کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کرلیا گیا ہے۔ سوریا پیٹ اور تنگا ترتی علاقوں کے آخری آیاکٹ تک پانی کی سربراہی عمل میں آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملنا ساگر پراجکٹ سے حسن آباد ، میدک ، آلیر ، بھونگیر اور جنگاؤں علاقوں میں پانی کی سربراہی عمل میں آئے گی ۔ چیف منسٹر نے کھمم کے سیتاراما پراجکٹ اور ورنگل کے دیوادولا پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا اور گوداوری طاس میں آبپاشی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ حکومت نے مختلف کنالوں کی مرمت کے لئے 700 کروڑ مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے کاموں کے لئے فنڈس میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔ چیف منسٹر نے محکمہ آبپاشی میں تمام اہل ملازمین کو پروموٹ کرتے ہوئے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی ہدایت دیں۔ آبپاشی شعبہ میں تقررات کیلئے بہت جلد علحدہ بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ریاست کے مختلف اضلاع میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے کاموں کا جائزہ لیا اور چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے مقصد سے پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ کورونا وباء کے باوجود پراجکٹس کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جائزہ اجلاس میں ریاستی وزراء جگدیش ریڈی ، پرشانت ریڈی ، نرنجن ریڈی ، ارکان مقننہ سبھاش ریڈی، سرینواس ریڈی ، یادگیری ریڈی ، ہنمنت شنڈے سائی ریڈی کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیدار شریک تھے۔