تلنگانہ ہائی کورٹ میں ترجمان اے آئی سی سی ڈاکٹر ڈی شرون کی درخواست
حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ڈیتھ آڈٹ کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے اور کورونا وائرس سے فوت ہونے والے تمام متوفی افراد کے لواحقین کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جاری کئے جانے والے 50 ہزار معاوضہ کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے۔ اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ڈی شرون نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست مفاد عامہ داخل کرتے ہوئے عدالت سے خواہش کی کہ ریاستی حکومت کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ ڈیتھ آڈٹ کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ تمام متوفی خاندانوں کو ایکس گریشیاء کی اجرائی کے اقدامات کریں۔ انہو ںنے عدالت میں اپنی درخواست میں بتایا کہ تلنگانہ میں سروے کے مطابق ایک لاکھ 20ہزار اموات ہوئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد وشمار میں محض 3912 افراد کی اموات کی توثیق کی جا رہی ہے اگر حکومت کی جانب سے صرف ان 3912 متوفی خاندانوں کو ہی ایکس گریشیاء کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صور ت میں مابقی متوفی خاندانوں کے افراد کے ساتھ ناانصافی ہوگی اسی لئے ریاست میں ڈیتھ آڈٹ کمیٹی کی تشکیل ناگزیر ہے۔محترمہ زینب خان ایڈوکیٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں ڈاکٹر شرون کی جانب سے یہ درخواست داخل کی ہے جس میں تمام متوفی افراد کے رشتہ داروں کو 50ہزار معاوضہ کی اجرائی کی اپیل کی گئی ہے۔ ڈاکٹر شرون نے بتایا کہ اگر حکومت کی جانب سے ریاست میں کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والے تمام متوفی افراد کے خاندانوں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے تو ایسی صور ت میں ناانصافی ہوگی اسی لئے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ وہ ریاست میں کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کے افرادخاندان سے ہونے والی امکانی ناانصافی کے تدارک کے اقدامات کرے۔ انہو ںنے بتایا کہ سپریم کورٹ نے جو احکام دیئے ہیں ان کے مطابق کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والے تمام متوفی ہندستانی شہریوں کے رشتہ داروں کو 50 ہزار روپئے معاوضہ کی فراہمی عمل میں لائی جانی چاہئے لیکن ریاست تلنگانہ میں فوت ہونے والوں کے اعداد وشمار مشتبہ ہیں اور اس سلسلہ میں کئی رپورٹس منظر عام پر آچکی ہیں اسی لئے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ڈیتھ آڈٹ کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے تمام متوفی افراد کے خاندانوں کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق معاوضہ کی اجرائی یقینی بنانے کی ہدایت دے۔م