ریاست میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان مقابلہ ’’ ٹائی ‘‘ ہوگا

   

دونوں کو فی کس 45 نشستوں پر کامیابی ، 15 حلقوں پر کانٹے کی ٹکر، ریونت ریڈی کا سروے
محمد علی شبیر پولٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر، گاندھی بھون میں کانگریس قائدین کا اہم اجلاس

حیدرآباد۔/17 جون، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے کانگریس کی جانب سے کرائے گئے سروے کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابھی انتخابات کرائے جاتے ہیں تو حکمران بی آر ایس اور اصل اپوزیشن کانگریس کے درمیان مقابلہ ( ٹائی ) برابری پر ختم ہوگا۔ کانگریس کو 45 اور بی آر ایس کو 45 نشستیں دستیاب ہوں گی۔ مجلس کو 7 اور بی جے پی کو 7 نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ مزید 15 اسمبلی حلقوں پر ٹکر کا مقابلہ ہوگا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کو فی الحال 37 فیصد اور کانگریس کو 34 فیصد ووٹ حاصل ہورہے ہیں، انتخابات تک کانگریس کا موقف مزید طاقتور ہوگا۔ بی جے پی کا ووٹ تناسب 24 فیصد سے گھٹ کر 14 فیصد ہوگیا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ اسمبلی حلقہ کوڑنگل کے سابق رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی چہارشنبہ کو کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ آج شام گاندھی بھون میں کانگریس سیاسی اُمور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال، مختلف جماعتوں کے قائدین کی کانگریس میں شامل ہونے میں دلچسپی کے علاوہ دیگر اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ساتھ ہی کانگریس کے سینئر قائد و سابق وزیر محمد علی شبیر کو پولٹیکل افیرس کمیٹی کا کنوینر نامزد کیا گیا۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں بھی کرناٹک کی طرز پر نتائج برآمد ہوں گے۔ کئی قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہیں، اگر کانگریس دروازے کھول دیتی ہے تو سیلاب کی طرح دوسری جماعتوں کے قائدین کانگریس میں شامل ہوجائیں گے مگر سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جارہا ہے۔ پارٹی میں شامل ہونے والوں کو کوئی تیقن نہیں دیا جارہا ہے۔ آئندہ دس دن میں منڈل کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بی سی، مہیلا، ایس سی، ایس ٹی، میناریٹی ڈیکلریشن پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ سی ایل پی قائد ملو بٹی وکرامارکا کی پدیاترا جاریہ ماہ اختتام کو پہنچ رہی۔ کھمم میں ایک جلسہ عام منعقد کرتے ہوئے پارٹی کے قومی قائدن کو مدعو کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ن