ریاست میں کمزور ہوتی گرفت کا احساس ‘ بی آر ایس کی قومی مسائل پر خاموشی

   

خود کو ریاستی امور تک محدود کرنے کو ترجیح ۔ بی جے پی سے الجھنے کی پالیسی ترک ۔ اپوزیشن اتحاد سے بھی دوری

حیدرآباد7 ستمبر (سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی نے خود کو ریاستی امور تک محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے یا وہ نہیں چاہتی کہ قومی مسائل پر بی جے پی سے الجھنے کی پالیسی اختیار کرے! ملک بھر میں قومی امور جن پر مباحث جاری ہیں ان سے بھارت راشٹرسمیتی نے خود کو دور رکھتے ہوئے یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنے قومی عزائم سے کنارہ کشی اختیار کرچکی ہے اور اب نہیں چاہتی کہ قومی معاملات میں دخل اندازی کے ذریعہ ریاست میں اپنی گرفت کو کمزور کرے۔ بتایاجاتا ہے کہ بی آر ایس نے جو مہاراشٹرا کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنے دفاتر قائم کرکے قومی معاملات پر مباحث اور ردعمل ظاہر کرنے میں پیش پیش رہنے لگی تھی اچانک خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور این ڈی اے دونوں سے خود کو دوررکھتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی نے خود کو تیسرے متبادل کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا تھا اور یہ دعویٰ کررہی تھی کہ مرکز میں بی آر ایس کے بغیرکوئی تشکیل حکومت نہیں کرپائے گا لیکن اب جبکہ گذشتہ ایک ہفتہ سے قومی سطح پر پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن ‘ ایک ملک ایک انتخابات ‘ انڈیا کی جگہ بھارت اور دیگر امور پر بحث جاری ہے ان معاملات میں بی آر ایس قائدین مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان قومی مسائل پر کسی بھی ردعمل کے اظہار سے خود کو لاتعلق رکھنے لگے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری ان امور میں بی آر ایس کی خاموشی سے واضح ہونے لگا ہے کہ بی آر ایس قیادت کو ریاست میں اپنی کمزور ہورہی گرفت کا احساس ہونے لگا ہے اور وہ ان حالات میں خود کو بی جے پی کے مقابل رکھنے تیار نہیں ہے۔ ریاستی کانگریس اور صدرپردیش کانگریس اے ریونت ریڈی مسلسل چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ بی آر ایس ایک ملک ایک انتخابات کے نظریہ کی حامی جماعتوں میں شامل ہے لیکن بی آر ایس کی جانب سے ان کی بات کا جواب بھی نہیں دیا جا رہاہے اور نہ ’انڈیا‘ اور ’بھارت‘ تنازعہ میں بی آر ایس کی جانب سے کوئی بیان جاری کیاگیا ہے ۔ بی آر ایس نے 18 تا 22 ستمبر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے انعقاد کے فیصلہ پر بھی اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ ریاست کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے ماہرین جو یہ کہہ رہے تھے کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے وہ موجودہ حالات کو اسی مفاہمت کا حصہ قرار دینے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بی آر ایس نے بی جے پی کے معاملات سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خود کو ملک میں تیسرے متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ ایک طرح سے بی آر ایس خود کو بی جے پی کی راہ میں رکاوٹ بننے سے بھی روکنا چاہتی ہے ۔ سناتھن دھرم کے متعلق چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن کے فرزند کے بیان پر جہاں ملک بھر میں شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے اس معاملہ میں بھی بھارت راشٹرسمیتی مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اس طرح بی آر ایس اپوزیشن اتحاد کے خلاف بھی کچھ بھی کہنے کے بجائے اپنے ریاستی امور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پارٹی کے استحکام اور دوبارہ اقتدار کے حصول پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔