طوفان بپر جوائے کے اثر انداز ہونے پر دو ہفتوں کی تاخیر ممکن
حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) ریاست میں 19 جون کو مانسون کی آمد کا امکان ہے تاہم ماہرین موسمیات کا کہناہے کہ اگر طوفان ’بپرجوائے‘ کے اثرات جنوبی ریاستوں پر مرتب ہوتے ہیں تو مانسون کی آمد میں مزید 2ہفتوں کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ اضلاع میں گرمی کی شدت میں کمی نہیں ہوئی ہے بلکہ ریاست بھر میں لو لگنے کے واقعات اور گرم ہواؤں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آئندہ 4یوم میں اس میں کسی کمی کا امکان نہیں ہے۔بحیرۂ عرب میں آئے طوفان کے ساحل گجرات سے ٹکرانے کے بعد حالات اور موسمی تبدیلیوں کو دیکھنے کے بعد ہی یہ بات واضح ہوگی کہ ریاست میں مانسون کی آمد کب ہوگی اور بارشوں کا سلسلہ کب شروع ہوسکتا ہے۔خانگی ماہرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں مانسون کی بارشوں کا سلسلہ جولائی کے دوسرے ہفتہ سے قبل شروع ہونے کے آثار نہیں ہیں لیکن اگر طوفان بپر جوائے جلد کمزور پڑتا ہے تو ہوا کے دباؤ میں کمی دور ہوسکتی ہے۔ ماہرین موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق جولائی کے دوسرے ہفتہ میں ریاست میں مانسون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے لیکن اگر تیز ہوائوں کے سبب بادل اپنا رخ تبدیل کرتے ہیں تو بارش کے امکانات موہوم ہوجائیں گے۔سرکاری محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی میں دعویٰ کیا گیا کہ جنوبی ریاستوں میں طوفان کے اثرات مرتب ہونے کے امکان کم ہیں اسی لئے تلنگانہ میں 19 سے 21 جون کے درمیان مانسون کی آمد کے امکانات ہیں اور اگر اس دوران مانسون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو تو مانسون کی آمد میں تاخیر ہی شمار کی جائے گی اور اگر بارش نہ ہو تو تو اسکے زراعت و زیر زمین پانی کی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔