چند مساجد میں محدود مصلیوں کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی ۔ لاکھوں مسلمانوںنے گھروں میں نماز ظہر ادا کی
حیدرآباد۔27 مارچ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ و شہر حیدرآباد میں 99فیصد مساجد میں جمعہ کے موقع پر کوئی بڑا اجتماع نہیں رہا بلکہ نماز جمعہ کی اذان کے بعدمؤذنین نے مساجد سے اس بات کا اعلان کردیاکہ عوام الناس اپنے گھروں میں نماز ظہر ادا کریں اور جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد آنے زحمت نہ کریں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں مساجد میں اس طرح کے اعلانات کے بعد لاکھوں مسلمانوں نے بھی گھرو ںمیں نماز ظہر اداکرنے کو ہی ترجیح دی اور چند مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی عمل میں آئی لیکن 5 سے زیادہ مصلی مسجد میں موجود نہیں تھے اور مساجد میں 7 تا 10 منٹ کے اندر نماز اور خطبہ مکمل کرلیا گیا۔ تاریخی مکہ مسجد میں حسب معمول مولانا حافظ محمد رضوان قریشی نے نماز جمعہ کی امامت کی اور خطبہ جمعہ دیا لیکن مصلیوں کی تعداد کو محدود ہی رکھا گیا ۔ اسی طرح شاہی مسجد باغ عامہ میں بھی مولانا احسن بن محمد الحمومی نے نماز جمعہ کی امامت کی اور خطبہ دیا لیکن مصلیوں کی تعداد کو محدود رکھا گیا اور دونوں ہی خطباء و آئمہ اکرام نے جامعہ نظامیہ کے اجلاس و گذشتہ یوم تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے جاری احکام کے بعد عوام سے اپیل کرچکے تھے کہ وہ جمعہ کیلئے مساجد کا رخ نہ کریں۔ شہر کے کئی رہائشی علاقو ںمیں مساجد کو مقفل رکھتے ہوئے صرف یہ اعلان کردیا گیا کہ عوام گھروں میں جمعہ کی بجائے نماز ظہر ادا کرلیں اور مساجد کو جانے کی زحمت نہ کریں۔ پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر اور ریاست کے اضلاع میں بھی نماز جمعہ کے موقع پر کئی مساجد کو مقفل رکھا گیا تھا کیونکہ جمعہ کی اذان کی صورت میں عوام کے امڈ آنے خدشہ تھا اسی لئے بیشتر مساجد میں نماز کے وقت کا اعلان کیا گیا اور مساجد کے باہر بورڈ آویزاں کرکے مصلیوں سے یہ کہہ دیا گیا کہ ریاستی و مرکزی حکومت کے کورونا وائرس سے نمٹنے اقدامات کے تحت فیصلوں کو دیکھتے ہوئے مساجد کے انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے اور تاحکم ثانی مساجد کو نہ آنے کی درخواست کی گئی ہے۔ شہر کی کئی اہم مساجد میں بھی جمعہ کے موقع پر اذان نہ دیتے ہوئے نماز کا وقت ہونے کا اعلان کیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں میں نماز ظہر ادا کریں۔ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے لازمی ہے کہ ہجوم سے دور رہنے کے اقدامات کئے جائیں اورعوامی رابطہ منقطع کرکے ہی اس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اسی لئے حکومت اور علمائے اکرام کے فیصلہ کے بعد شہر کی مساجد میں طویل مدت کے بعد نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا نہیں کی گئی بلکہ صحت عامہ کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے محدود تعداد میں مصلیوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنے اقدامات کئے گئے ۔ مصلیان کے چہروں پر مساجد کو مقفل دیکھ کر مایوسی و کرب واضح نظر آرہا تھا ۔ علمائے اکرام نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں نماز کی ادائیگی کو ترجیح دیں اور اللہ سے رجوع ہوتے ہوئے توبہ و استغفار کی کثرت کریں اوردعاء کریں کہ اللہ دنیا بھر میںپھیلنے والی اس بیماری سے دنیا کوجلد نجات عطا کرے۔
