ریاست کی سیاست 17 ستمبر کے آس پاس گھوم رہی ہے

   

کانگریس اور بی جے پی کے جلسے ، مجلس کی بائیک ریالی، چیف منسٹر کے محبوب نگر میں پروگرامس
مجوزہ اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتیں سرگرم
حیدرآباد۔ 6 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست کی سیاست سقوط حیدرآباد 17 ستمبر کے اطراف و اکناف گھوم رہی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 18 سال بعد اپنے فیصلہ ساز سی ڈبلیو سی کا اجلاس حیدرآباد میں منعقد کرنے والی کانگریس پارٹی 17 ستمبر کو پریڈ گراؤنڈ یا ایل بی اسٹیڈیم میں جلسہ عام کا انعقاد کرتے ہوئے تلنگانہ میں انتخابی مہم کا عملاً آغاز کررہی ہے اور اس دن 5 گیارنٹیز عوام کے لئے جاری کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر و تلنگانہ بی جے پی کے صدر بی کشن ریڈی نے 17 ستمبر کو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پریڈ گراؤنڈ پر مرکزی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر سقوط حیدرآباد کی سرکاری تقریب و جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مدعو کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ حکمران جماعت بی آر ایس نے 16 ستمبر کو محبوب نگر میں پالمور۔ رنگاریڈی لفٹ اریگیشن کا ویٹ رن کا آغاز کرتے ہوئے ایک جلسہ عام انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے دن 17 ستمبر کو اضلاع محبوب نگر اور رنگاریڈی کے مختلف گاؤں میں مختلف پروگرامس منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس طرح مجلس نے بھی 17 ستمبر کو قومی یکجہتی پروگرام کا انعقاد کرتے ہوئے شہر میں بائیک ریالی منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سال کے اواخر میں تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جس کی تیاری میں تمام سیاسی جماعتیں مصروف ہوگئی ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سب سے پہلے بی آر ایس کے 115 امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے اس دوڑ میں سب سے آگے رہنے کا عوام کو پیغام دیا ہے یہ اور بات ہے۔ امیدواروں کے اعلان کے بعد بی آر ایس میں بڑے پیمانے پر اختلافات، گروپ بندیاں منظر عام پر آگئی ہیں۔ پارٹی کے قائدین پہلی مرتبہ چیف منسٹر کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں جس کے بعد بی آر ایس قیادت امیدواروں کی فہرست پر نظرثانی کرنے کا پارٹی قائدین کو اشارہ دے رہی ہے۔ اس مرتبہ تلنگانہ میں کسی بھی صورت میں اقتدار حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والی کانگریس پارٹی نے 18 سال بعد حیدرآباد میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو دن تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے کے علاوہ کانگریس کے چیف منسٹرس، صدور پردیش کانگریس کمیٹی، سی ایل پی قائدین کے علاوہ دیگر اہم قائدین شرکت کریں گے۔ 16 اور 17 ستمبر کو دو روزہ اجلاس ہوگا۔ 17 ستمبر کو پریڈ گراؤنڈ یا ایل بی اسٹیڈیم میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ 17 ستمبر کو ہمیشہ متنازعہ بنانے والی بی جے پی نے اس سال انتخابات کے پیش نظر سقوط حیدرآباد کو اہم موضوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی کشن ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت سقوط حیدرآباد کی سرکاری تقریب منائے گئی۔ ساتھ ہی پریڈ گراؤنڈ پر ایک جلسہ عام کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی نے 17 ستمبر کو قومی یکجہتی کے طور پر مناتے ہوئے شہر میں بائیک ریالی منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ہونے کی وجہ سے تمام سیاسی جماعت 17 ستمبر کو خاص اہمیت دے رہی ہیں اور اپنے مستقبل کی حکمت عملی تیار کررہی ہیں۔ ن