لاک ڈاون سے عطیہ دہندگان دواخانوں تک پہونچنے سے قاصر
حیدرآباد 17 اپریل ( سیاست نیو ز ) ریاست کے دواخانوں میں خون یا پیک شدہ آر بی سی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاو کے وقت میں یہ قلت تشویش کی بات ہے ۔ اس کے علاوہ بھی مختلف طرح کی طبی ایمرجنسی میں خون کی شدید ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر کے بڑے دواخانہ نمس میں معمول کے وقت میں 500 یونٹس تک خون دستیاب رہتا ہے تاہم فی الحال یہاں 150 تا 180 یونٹس خون ہی دستیاب ہے ۔ شہر میں کئی دواخانے اور بلڈ بینکس موجود ہیں لیکن ان میں اکثریت کو خون کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے خون کا عطیہ دینے والوں کی اکثریت وہاں پہونچنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے یہ قلت پیدا ہوئی ہے ۔ صدر ریسیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن نمس حیدرآباد ڈاکٹر سرینواس کے بموجب حکومت کی جانب سے جو پابندیاں لاک ڈاون کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں اس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے حکومت نے باہر سے خون حاصل کرنے یا پھر خون کے عطیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ریاست بھر میں کہیں بھی خون کے عطئے کے کیمپس بھی منعقد نہیں کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی عطیہ دہندگان ہی دواخانوں تک پہونچ پا رہے ہیں۔
