ریاست کے مفادات پر کے ٹی آر کو دہلی میں بھوک ہڑتال کا چیلنج

   


ٹی آر ایس اور بی جے پی میں اختلافات بناوٹی، رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد: کانگریس ایم پی ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کو چیلنج کیا کہ اگر وہ تلنگانہ کی ترقی میں سنجیدہ ہیں تو ریاست کے حقوق حاصل کرنے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے تحت تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے، ان پر عمل سے مرکز نے انکار کردیا ۔ ریونت ریڈی نے کانگریس ایم ایل سی امیدوار جی چنا ریڈی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس دو علحدہ جسم ہیں لیکن روح ایک ہے ۔ کے ٹی آر پر تنقید کرتے ہوئے ریونت نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی انویسٹمنٹ ریجن کی طرز پر مرکز سے پیاکیج کا مطالبہ کرنا مضحکہ خیز ہے۔ مرکز نے ٹی آر ایس حکومت کی لاپرواہی کے نتیجہ میں آئی ٹی آئی آر پراجکٹ منسوح کردیا ہے۔ انہوں نے کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کے تلنگانہ سے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی ریاست کی تشکیل سے قبل دونوں تلگو ریاستوں میں مختلف پراجکٹس کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو قانون میں دیئے گئے وعدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے۔ریونت ریڈی نے چیف منسٹر سے کہا کہ وہ ورنگل میں ریلوے کوچ فیکٹری اور آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کی منسوخی کے سلسلہ میں نریندر مودی پر تنقید سے گریز کیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس حکومت ریاست کی ترقی میں سنجیدہ ہے تو کے ٹی راما راؤ کو دہلی میں جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوٹ ہڑتال شروع کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا اکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی تلنگانہ میں بظاہر دشمن ہیں لیکن دہلی میں دوست ہیں۔ چندر شیکھر راؤ اور نریندر مودی تلنگانہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔