اسمبلی کے ہال میں ممتاز ماہر اقتصادیات کارتک مرلیدھرن کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔26 ۔ مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاست میں ہر بچہ کو معیاری تعلیم اور مناسب غذا فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کے ہال میں منعقدہ ایک جائزہ ا جلاس میں چیف منسٹر نے ممتاز ماہر اقتصادیات کارتک مرلی دھرن کے ساتھ بچوں کی مجموعی انسانی ترقی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے دوران کارتک مرلیدھرن نے ریاست میں پیدائش سے 10 سال کی عمر کے بچوں میں غذائی قلت اور تعلیمی پسماندگی سے
متعلق مختلف رپورٹس پیش کرتے ہوئے اس کی طویل مدتی اثرات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ کم عمری میں غذائی قلت مستقبل میں صحت کے مسائل کا سبب بنتی ہے جبکہ ابتدائی تعلیم میں کمی ، بچوں کی ذہنی نشو و نما اور مستقبل پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کئی عملی تجاویز بھی پیش کئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت پہلے ان امور پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور حالیہ بجٹ میں اسکولس میں مڈ ڈے میلز کے ساتھ ناشتہ کی فراہمی کیلئے فنڈس مختص کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ آنگن واڑی مراکز میں تغذیہ بخش غذا کی فراہمی کیلئے ’’پوشن سخی‘‘ کے نام سے اضافی عملہ مقرر کیا جائے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس تجویز پر عملدرآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ کور اربن ریجن (CURE) کے تحت 29 اسکولس کامپلکس میں کارتک مرلیدھرن کی تجاویز کو پائلٹ پراجکٹ کی بنیادوں پر نافذ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہدایت دی کہ اس موضوع پر ایک جامع رپورٹ تیار کر کے پیش کی جائے ۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ، ریاستی وزیر خواتین و اطفال سیتکا ، چیف سکریٹری کے راما کرشنا راؤ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت بچوںکی بہتر تعلیم اور صحت کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی تاکہ آنے والے نسل کو مضبوط بنیاد فراہم کی جاسکے۔2