حکمران جماعت کے قائدین کو صدر نشین ، ضلع کلکٹر یا اڈیشنل کلکٹر کو نائب صدر نشین نامزد کرنے کا امکان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت ریاست کے ہر ضلع میں اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ تیاریاں آخری مراحل میں پہونچ گئی ہیں ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں بہت جلد سرکاری احکام جاری کئے جائیں گے ۔ فی الحال ریاست میں ایچ ایم ڈی اے کے بشمول 10 اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز ہیں ۔ سوائے حیدرآباد ، رنگاریڈی کے ماباقی اضلاع میں اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز قائم کئے جائیں گے ۔ ان اتھارٹیز کے صدور نشین کی حیثیت سے کانگریس قائدین کو نمائندگی دی جائے گی ۔ نائب صدور نشین یا ایم ڈیز کی حیثیت سے کلکٹر یا اڈیشنل کلکٹر ( مقامی اداروں ) کو نامزد کرنے کا امکان ہے ۔ ریاست کی آبادی میں تقریبا 49 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2031 تک شہری علاقوں کی آبادی 60 فیصد تک پہونچ جائیگی ۔ آبادی کے تناسب سے بنیادی سہولتیں ، پانی ، برقی ، سڑکیں ، ڈرینج جیسی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ریاستی و مرکزی حکومتیں سالانہ ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کررہے ہیں ۔ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز قائم کرکے ترقیاتی کاموں میں تیزی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ضلع ہیڈ کوارٹر سے متصل گرام پنچایتوں کو ضم کرکے اتھاریٹی تشکیل دی جائے گی ۔ ٹاون پلاننگ سے اسکیمات تیار کرکے اتھاریٹی عمل کرے گی اور خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا جس سے مسائل کی یکسوئی میں تیزی پیدا ہوگی ۔ ساتھ ہی سلم علاقوں کی بھی ترقی ہوگی ۔ ان اتھارٹیز کیلئے خصوصی عملہ و فنڈز بھی مختص کیے جائیں گے ۔ اربن علاقہ کی ترقی کیلئے مرکز سے فنڈز کی اجرائی کی حکومت توقع کررہی ہے ۔ ریاست میں پہلی مرتبہ 1975 میں حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( حڈا ) قائم ہوئی تھی ۔ حیدرآباد کے مضافات کے 30 میونسپلٹیز کو ضم کرتے ہوئے 2008 میں ایچ ایم ڈی اے کی حیثیت سے اس کو حکومت نے اپ گریڈ کیا تھا ۔ اس کے بعد ورنگل میونسپلٹی کو کاکتیہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، اس کے ساتھ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، نظام آباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، سمبھادری اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (کھمم ) شاتاواہنا اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، گجویل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، سدی پیٹ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، ، یداگری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، ویملواڑہ ٹمپل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، کوڑنگل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی موجود ہیں ۔۔ 2