286 لکچررس کی گنجائش ، تقررات میں محکمہ تعلیم کی مجرمانہ غفلت، طلبہ کی تعلیم متاثر
حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ریاست کے سرکاری ٹیچرس ایجوکیشن کالجس ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (DIETS) ناکارہ ہوگئے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے محکمہ تعلیم ان میں مستقل لکچررس کا تقرر نہ کرتے ہوئے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ڈی ای ڈی کے امیدواروں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے ریگولر لکچررس ہی نہیں پرنسپلس بھی نہیں ہے ۔ ریاست میں 10 سرکاری ڈائیٹ کالجس میں 286 مستقل لکچرر کے منجملہ صرف 16 لکچررس ہیں۔ 270 لکچررس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ چند مقامات پر گیسٹ لکچررس اور سرکاری ٹیچرس کو ڈیپیوٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے ۔ سرکاری ٹیچرس کیلئے یونیفائیڈ سرویس رولز کے مسئلہ کی وجہ سے ڈائیٹ اور بی ایڈ کالجس میں ترقیوں کے ذریعہ 70 جائیدادوں پر تقررات کا مسئلہ ہے ۔ تاہم 30 فیصد نچلے سطح کی جائیدادوں پر تقررات نہ کرتے ہوئے تاخیر کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے مخلوعہ جائیدادوں پر سوال اٹھانے پر 110 جائیدادوں پر تقررات کرنے کیلئے ٹی جی پی ایس سی نے 12 نومبر 2022 کو حکومت نے جی او جاری کیا تھا ۔ تین سال گزرجانے کے بعد بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ۔ میڑچل (حیدرآباد ، نریڈ مینٹ) ورنگل ڈائیٹ کالج میں ایک بھی مستقل لکچرر نہیں ہے ۔ ورنگل ڈائیٹ ، بی ایڈ کالج کو ملاکر عادل آباد ڈائیٹ کے لکچرر کو انچارج پرنسپل کی ذمہ داری حوالے کی گئی ۔ 10 ڈائیٹ کالجس میں صرف ایک نظام آباد میں ہی مستقل پرنسپل ہیں۔ ڈائیٹ کالجس میں 1400 ڈی ای ڈی نشستیں ہیں۔ 2022-23 میں 1123 ، 2023-24 میں 750 ، 2024-25 میں 946 نشستوں پر بھرتی ہوئی ۔ سرکاری تدریسی کالجس کی نگرانی کرنے والے ایس سی ای آر ٹی سی پروفیسرس اور لکچررس کی 26 جائیدادیں ہیں مگر صرف 8 کام کر رہے ہیں ۔ سال 2018-19 میں مرکز نے حیدرآباد ، رنگا ریڈی ، آصف آباد اور بھوپال پلی اضلاع کیلئے ڈائیٹ کالجس کی منظوری دی ہے ۔ عمارتوں کی تعمیرات کا کام بھی مکمل ہوگیا ہے ۔ جائیدادیں منظور نہ ہونے کی وجہ سے داخلے نہیں ہورہے ہیں۔2