ریاست کے 16 انجینئرنگ کالجس کے بند ہونے کا امکان

   

Ferty9 Clinic

3,800 نشستیں ختم ہوسکتی ہیں ، موجودہ حالات اور کم آمدنی اہم وجہ

حیدرآباد :۔ تعلیمی سال 2020-21 میں 3,800 انجینئرنگ کی نشستیں ختم ہوجانے کا امکان ہے کیوں کہ 16 کالجس نے عارضی طور پر یا مکمل طور پر کالج بند کرنے کے لیے جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی ، حیدرآباد میں درخواست داخل کی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کالج بند کرنے کے لیے نو آبجکشن سرٹیفیکٹ کے لیے جن کالجوں نے درخواست داخل کی ہے وہ اضلاع میں ہے ۔ ان میں بیشتر کالجس اضلاع میں دور دراز قائم ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے ان میں انتہائی کم داخلے ہوئے ہیں ۔ جے این ٹی یو ایچ کے رجسٹرار منظور حسین نے بتایا کہ بیشتر کالجس 90 کی دہائی کے ابتداء میں قائم کئے گئے تھے اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی و عروج کے دوران زبردست آمدنی حاصل کی تھی ۔ بعض انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اضلاع میں کالجس کے قیام اور چلانے سے ان کو آمدنی نہیں ہورہی ہے ۔ گذشتہ چند برسوں سے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کی ادائیگی میں حکومت کی جانب سے تاخیر سے حالات اور بھی خراب ہوگئے ہیں ۔ ایک کالج انتظامیہ کے کرسپانڈنٹ نے بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں سے کالج کو آمدنی نہیں ہورہی ہے کیوں کہ کالج میں داخلوں کی تعداد 100 سے کم ہوتی ہے ۔ لہذا کالج کی عمارت حکومت کو کرایہ پر دینے یا کسی اسکول کے لیے لیز پر دینے سے ماہانہ معقول آمدنی ہورہی ہے ۔ کسی طرح دوسرے کالجس اپنی عمارت کو ہاسٹل یا پیئنگ گیسٹ کی سہولت میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کررہے ہیں ۔ بعض نے کووڈ 19 وباء کے پیش نظر اپنی پراپرٹی فروخت کردی ہے ۔ جے این ٹی یو کی جانب سے اس سال فزیکل معائنہ بھی نہیں کیا جارہا ہے اور مشروط الحاق جاری کیا جائے گا ۔ منظور حسین نے بتایا کہ صورتحال سازگار ہونے پر فزیکل معائنہ کیا جائے گا اور اب نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل مشروط الحاق جاری کیا جائے گا ۔۔