3 اقلیتی قائدین کو نمائندگی، محمد ریاض، ایم اے جبار اور ایم اے فہیم شامل، ٹکٹ سے محروم قائدین کو ترجیح
حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ریونت ریڈی حکومت نے اسمبلی چناؤ میں ٹکٹ کی قربانی دینے والے اور پارٹی کی کامیابی کیلئے محنت کرنے والے قائدین کو نامزد عہدوں پر فائز کرکے 37 مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کا تقرر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لوک سبھا چناؤ کے شیڈول کی اجرائی سے عین قبل صدورنشین کے تقررات کے احکام جاری کئے گئے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق سے بچنے 14 مارچ کی تاریخ میں احکام تقرر جاری کئے گئے۔ 37 صدورنشین میں تین مسلم اقلیت کے نمائندے شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے نامزد عہدوں میں تمام طبقات کو نمائندگی کی مساعی کی ہے۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی، سابق صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور حکومت کے مشیران کی موجودگی میں ناموں کو قطعیت دی۔ ان میں زیادہ وہ قائدین ہیں جنہیں اسمبلی ٹکٹ سے محرومی پر نامزد عہدہ کا تیقن دیا گیا تھا۔ کاکتیہ یونیورسٹی سے وابستہ محمد ریاض کو تلنگانہ گرندھالیہ پریشد کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ ایم اے جبار کو تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کا نائب صدرنشین مقرر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کوداڑ ضلع نلگنڈہ کے ایم اے جبار ونستھلی پورم کے مشہور عالم دین کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ سنگاریڈی کے ایم اے فہیم کو تلنگانہ فوڈس کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ وہ کئی برسوں سے پردیش کانگریس کمیٹی پروٹوکول ڈپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ دیگر صدورنشین میں پٹیل رمیش ریڈی ( ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، صدر یوتھ کانگریس شیوا سینا ریڈی ( اسپورٹس اتھاریٹی آف تلنگانہ ) ، این پریتم ( ایس سی کارپوریشن )، این سریکانت ( بی سی فینانس کارپوریشن )، کسان کانگریس کے ریاستی صدر انویش ریڈی ( تلنگانہ سیڈس ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، ای انیل ( منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، وجئے بابو ( کوآپریٹیو ہاوزنگ فیڈریشن )، ناگیشور راؤ( ویر ہاوزنگ کارپوریشن )، بانسواڑہ اسمبلی حلقہ کے ٹکٹ سے محروم کے بالراجو( ایگرو انڈسٹریز کارپوریشن )، مہیلا کانگریس لیڈر این شاردا ( ویمنس کمیشن )، بی شوبھا رانی ( ویمنس کوآپریٹیو ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، جگدیشور راؤ ( اریگیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، راگھو ریڈی ( آئیل سیڈس گروورس فیڈریشن )، ایم موہن ریڈی صدر ضلع کانگریس نظام آباد ( کوآپریٹیو یونین لمیٹیڈ )، بلیا نائیک ( گریجن کوآپریٹیو فینانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، گروناتھ ریڈی ( پولیس ہاوزنگ کارپوریشن )، نرسمہا ریڈی ( اربن فینانس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، ایم سائی کمار ( فشریز کوآپریٹیو سوسائٹی) ، کے ناگو ( ایس ٹی کوآپریٹیو فینانس کارپوریشن )، جنک پرساد ( اقل ترین ویجس ایڈوائزری بورڈ) ، این ویریا ( معذورین کارپوریشن )، این ستیا نارائنا ( ہینڈی کرافٹ کارپوریشن )، سابق رکن اسمبلی جگا ریڈی کی اہلیہ نرملا جگا ریڈی ( انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن )، مل ریڈی رام ریڈی ( روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، کے سجاتا ( ویشیا کارپوریشن )، پی ویریا ( فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، پرکاش ریڈی ( ٹریڈ پرموشن کارپوریشن )، نریندر ریڈی ( ساتاواہنا اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی )، اے پونجالا ( سنگیت ناٹک اکیڈیمی )، گریدھر ریڈی ( فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، این ستیش کمار( ٹیکنیکل سرویسس ڈیولپمنٹ کارپوریشن )، جے جئے پال ( موسٹ بیاک ورڈ کلاسیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن ) اور ای وینکٹ رامی ریڈی ( کاکتیہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ) شامل ہیں۔1