مہیشورم اور قطب اللہ پور شامل، ریاست میں میڈیکل نشستیں 8215 پہنچ گئیں
حیدرآباد ۔20۔ جولائی (سیاست نیوز) ریاست میں دیہی علاقوں تک بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی اور میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے حکومت نے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شکھر راؤ کا ماننا ہے کہ ضلع ہاسپٹلس کو عصری علاج کی سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے کارپوریٹ طرز کے علاج کو یقینی بنایا جائے۔ میڈیکل ایجوکیشن کی توسیع کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہے۔ ریاست میں میڈیکل کالجس سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق متحدہ آندھرپردیش میں صرف 5 گورنمنٹ میڈیکل کالجس تھے اور یہ کالجس این ٹی آر ہیلت یونیورسٹی سے مسلمہ تھے۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد انہیں کالوجی نارائن راؤ ہیلت یونیورسٹی سے مربوط کیا گیا۔ 2016 ء سے یہ یونیورسٹی خدمات انجام دے رہی ہے جس کے تحت میڈیکل ، ڈینٹل ، آیوروید ، ہومیوپیتھی ، یونانی اور دیگر شعبہ جات کے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسس میں داخلے دیئے جارہے ہیں۔ حکومت نے نئے میڈیکل کالجس کے قیام کے ذریعہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے ۔ ریاست کے قیام کے وقت 5 سرکاری اور 15 خانگی میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس نشستوں کی تعداد 2950 تھی ، تلنگانہ حکومت نے 9 برسوں میں 21 نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجس قائم کئے ۔ اس کے علاوہ 13 نئے خانگی میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں نشستوں کی تعداد بڑھ کر 3690 ہوچکی ہے جبکہ خانگی کالجس میں 4525 نشستیں دستیاب ہیں۔ ریاست میں مجموعی طور پر 8215 ایم بی بی ایس ، 2832 پوسٹ گریجویٹ اور 138 سوپر اسپیشالیٹی نشستیں دستیاب ہیں۔ نئے میڈیکل کالجس کے قیام سے ایم بی بی ایس کی 5265 ، پوسٹ گریجویشن کی 1649 اور سوپر اسپیشالیٹی 59 نشستوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت نے 8 نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجس کی منظوری دی ہے جو ملگ ، نرسم پیٹ ، یادادری ، مہیشورم ، میدک ، قطب اللہ پور ، گدوال اور نارائن پیٹ میں قائم کئے جائیں گے اور آئندہ تعلیمی سال سے داخلوں کا آغاز ہوگا۔ حکومت نے پیرا میڈیکل کورسس کی نشستوں میں بھی اضافہ کیا ہے ۔ر