مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کے اقدامات
ریاض : سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی میڈیا فورم کا تیسرا اجلاس پیر 19 سے 21 فروری تک سعودی ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن اتھارٹی اور سعودی جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے تحت منعقد ہورہا ہے۔یہ فورم قبل ازیں دو مرتبہ ہونے والے کامیاب فورمز کا تسلسل ہے جس میں دنیا بھر کے میڈیا لیڈرز انڈسٹری کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔فورم کا انعقاد میڈیا انڈسٹری میں اپنے مثبت اثرات اور سعودی عرب میں اس کے ترقی کے مراحل اجاگر کرنے کے علاوہ مختلف شعبوں میں ہونے والی تیز ترین تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے کیلئے ہورہا ہے۔فورم کے تحت فعال معاشرے کی تخلیق کے علاوہ سرمایہ کاری کے مواقع، مقامی اور بین الاقوامی تجربات کا تبادلہ اور سعودی عرب میں میڈیا کے حوالے سے کامیابیوں بھی اجاگر کیا جائے گا۔فورم کے دوران دنیا کی نظر سعودی عرب کی جانب ہو گی جہاں مقامی اور بین الاقوامی تجربات پر روشنی ڈالی جائے گی۔فورم کا مقصد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے درمیان تعاون کے پل قائم کرنے کے علاوہ مثبت ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ میڈیا انڈسٹری کے معیار بلند کیا جائے اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ چلا جائے۔فورم کے حوالے سے میڈیا کے مستقبل پر ایگزیبیشن’فومکس‘ کا بھی انعقاد ہوگا جو مشرق وسطی میں سب سے بڑی میڈیا ایگزیبیشن ہے جو اس شعبے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز رہے گی۔متعدد ورکشاپش کا بھی انعقاد ہوگا۔فورم کے تحت میڈیا کے مستقبل پر مباحثے کے لیے 30 سے زیادہ سیشن ہوں گے جن میں مقررین مختلف وژن پیش کریں گے جن کا محور میڈیا کے مستقبل اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔فورم کے تحت ہونے والے سیشنوں میں سپورٹس کا میڈیا سے تعلق، بزبس، سیاحت، ایونٹس اور دیگر شعبوں کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ایک خصوصی سیشن ایکسپو ریاض 2030 جبکہ ایک سیشن فیفا ورلڈ کپ 2034 کے حوالے سے ہوگا۔میڈیا اور مصنوعی ذہانت بھی فورم کا خصوصی موضوع ہے جبکہ میڈیا کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہوگی۔میڈیا ا سکلز ڈیولپنگ اور پیشن ٹو پروفیشن کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی کے ماحول میں میڈیا اسکلز کے مستقبل کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے گا۔خیال رہے عرب میڈیا میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ روایتی میڈیا کو ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔عرب میڈیا میں جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں غلط معلومات کا پھیلنا بھی ہے جو میڈیا اداروں کے اعتبار اور معاشرے کے استحکام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔عرب میڈیا کوعالمی سطح پر سوشل میڈیا کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔علاوہ ازیں کئی میڈیا اداروں کو مالی سپورٹ کی کمی کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ عرب میڈیا کو مواد اور کوالٹی کو بہتر بنانے کا چیلنج بھی درپیش ہے تاکہ پیش کردہ مواد قارئین کی توجہ کا مرکز رہے۔سعودی میڈیا فورم کے چیئرمین، ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن کے سی ای او محمد بن فہد الحارثی کا کہنا ہے کہ’ یہ فورم میڈیا کی ترقی، تخلیقی سوچ اور مواد کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرنے گا جس میں میڈیا کے کردار کی سپورٹ، رائے عامہ کی تشکیل اور کامیاب پارٹنر شپ جو مقامی اور عالمی سطح پر میڈیا کمپنیوں اور اداروں کے کام کی ترقی میں معاون ہے۔