333.55 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ ، 2.8 کیلو میٹر کا احاطہ ، کام میں تیز کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔ ریتی باؤلی ‘ مہدی پٹنم ‘ٹولی چوکی سے براہ شیخ پیٹ گچی باؤلی پہنچنے والی ٹریفک جام سے نمٹنے کیلئے تعمیر کئے جا رہے عثمانیہ یونیورسٹی کالونی فلائی اوور کے کامو ںکو جاریہ سال ستمبر تک مکمل کرلیا جائے گا ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے 333.55 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کئے جا رہے 2.8 کیلو میٹر کے اس فلائی اوور پر دونوں جانب سے ٹریفک کو گذرنے کی اجازت حاصل رہے گی ۔ بلدی عہدیدارو ںنے بتایا کہ اس فلائی اوور کے کاموں کو تیز کرنے کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور اب دن رات کام کا سلسلہ جاری ہے ۔ 24 میٹر چوڑے اس فلائی اوور پر 6 لین ہوں گی اور دونوں جانب تین تین لین ہوں گی۔ ریتی باؤلی سے گچی باؤلی جانے والی ٹریفک کو مصروف ترین اوقات کے دوران ہونے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تیار کئے گئے منصوبہ کے تحت اس فلائی اوور کے کامو ںکی عاجلانہ تکمیل یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مصروف ترین اوقات میں اس سڑک پر ٹریفک جام کے سبب کوئی بھی اپنے وقت پر نہیں پہنچ پا رہا تھا اور مسلسل ٹریفک میں ہونے والے اضافہ اور اطراف کی سڑکوں پر بھی ٹریفک میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس فلائی اوور کے ذریعہ شیخ پیٹ ‘ جوبلی ہلز‘ سات گنبد‘ فلم نگر جنکشن‘ او یو کالونی جنکشن کی ٹریفک کے لئے بھی کافی فائدہ بخش ثابت ہوگا۔اس فلائی اوور کے کامو ںکا اپریل 2018 میں آغاز کیا گیا تھا لیکن اب کاموں میں مزید تیزی پیدا کردی گئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ جاریہ سال کے اواخر سے قبل اس فلائی اوور کو عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کی سمت سفر کرنے والوں کوہونے والی مشکلات کو دورکرنے میں یہ فلائی اوور انتہائی معاون ثابت ہوگا اور کہا جار ہاہے کہ اس فلائی اوور کے آغاز کے ساتھ ہی اس سڑک پر ٹریفک جام کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہوجائے گا۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے مطابق ریتی باؤلی سے گچی باؤلی سڑک پر تعمیر کئے جانے والے اس فلائی اوور کے نصف سے زیادہ کاموں کی تکمیل ہوچکی ہے اور اس 2.8 کیلو میٹر طویل فلائی اوور کے 71پلرس تیار کرلئے گئے ہیں اور ان پر سلاب کے کاموں کو بھی تیز کردیا گیا ہے اب تک 40 سلاب بھی ڈال دیئے گئے ہیں اور آئندہ چند ماہ کے دوران مزید پلروں کی تعمیر اور سلابس کی تنصیب کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا۔