وادی المور: ریت کی منتقلی اور غیرقانونی طور پر بعض علاقوں پر قابض ہوجانے سے عمان کے ایک گاؤں وادی المور کے وجود کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ آیا گاؤں موجود ہے یا نہیں لیکن یہاں کسی زمانے میں رہائش اختیار کئے ہوئے لوگ اور بعض سیاحوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا جس سے یہ انکشاف ہوا کہ ریت کے طوفان سے متعدد گاؤں اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ اس علاقہ کے رہائشی سیلم العریمی نے بتایا کہ ان کے گاؤں کی بہت زیادہ توسیع ہوچکی ہے کیونکہ ریت کے طوفان آنے سے گاؤں کے گاؤں اس کی زد میں آجاتے ہیں اور یہ کوئی 30 سال قبل کی بات ہے جب وادی المور کے ساکنان کو ریت کی زبردست منتقلی کی وجہ سے اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا تھا۔ دریافت کرنے پر گاؤں کے کچھ مکانات کی ٹوٹی پھوٹی دیواریں (اینٹ کی شکل میں) یہاں وہاں بکھری ہوئی ملیں کیونکہ صحراؤں کی تشویشناک حد تک توسیع وبالِ جان بنتی جارہی ہے جس کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس سے نمٹنے کے کوئی مؤثر ذرائع ہیں۔ بہرحال ایک ایسی مسجد جو کسی زمانے میں گاؤں کا حصہ ہوا کرتی تھی اور اس کے اطراف تقریباً 30 مکانات اور 150 مکین رہا کرتے تھے، دوبارہ دریافت ہوئے ہیں۔ اس گاؤں میں اب قدیم عمارتوں کی تصاویر لینے والے بھی اکثر و بیشتر نظر آتے ہیں اور کبھی کبھی یہاں کسی زمانے میں زندگی گزارنے والوں کی دوسری نسل بھی آتی ہے تاکہ اپنے باپ دادا کی پرانی یادوں کو تازہ کیا جاسکے۔