9265 ایکر اراضی حصول کی تیاریاں ، قومی شاہراہوں کے جنکشن پر وینچرس تیار کرنے کی تجویز
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت ریجنل رنگ روڈ کی تعمیرات میں رکاوٹ بننے والی حصول اراضیات کے مسئلہ کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ اخراجات کو کم کرنے اور اراضیات کو حاصل کرنے کے لیے نیشنل ہائی ویز سے متصل رہنے والے جنکشنس کے پاس بڑے پیمانے پر وینچرس بناتے ہوئے اراضیات سے محروم ہونے والے مالکین کو پلاٹس مختص کرنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ اس کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے پر غور کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ میں ریجنل رنگ روڈ تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے حصول اراضیات کے 50 فیصد اخراجات برداشت کرنے کے لیے رضا مندی کا اظہار کیا ۔ ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر پر 16,241 کروڑ روپئے کے مصارف ہیں ۔ اس کے لیے 9265 ایکر حصول اراضی کی ضرورت ہے ۔ صرف حصول اراضی پر 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ موجودہ حالت میں اتنے بھاری مصارف حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ حکومت کی جانب سے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پراجکٹ کی تکمیل بھی ہو اور مصارف بھی گھٹ جائے ۔ اس پراجکٹ کے لیے ایکر اراضی دینے والوں کو 1250 تا 1500 گز پر مشتمل پلاٹس دینے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ نقد رقم دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ اس سے اراضی رکھنے والوں کو بھی فائدہ ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے حصول اراضی کے مسئلہ پر تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ علاقائی شاہراہوں کی لے آوٹ تیار کرنے کی ذمہ داری ایچ ایم ڈی اے کو سونپی جارہی ہے ۔ حصول اراضی کے بعد اندرون 6 ماہ پلاٹس تقسیم کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر کے لیے تقریبا 9265 ایکر حصول ایکر اراضی کی ضرورت ہے ۔ ہر کیلو میٹر پر 25 تا 30 ایکر اراضی حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ فی الحال 6 لائن روڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے لیکن 8 لائن روڈ تعمیر کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے مشترکہ طور پر تعمیر کی جانے والی یہ رنگ روڈ 8 اضلاع سنگاریڈی ، میدک ، سدی پیٹ ، بھونگیر ، نلگنڈہ ، رنگاریڈی ، وقار آباد ، ناگر کرنول سے گذرے گی ۔ جس میں 8 قومی شاہراہوں اور 25 شہروں اور 300 گاوں کا احاطہ کرے گی ۔ ریاست کی 40 فیصد آبادی اس ریجنل رنگ روڈ کے احاطے میں قیام پذیر ہے ۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔۔