حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : کالیشورم لفٹ اریگیشن اسکیم (KLIS) کے تحت تعمیر کئے گئے کنالس اور ذخائر آب کی وجہ امکان ہے کہ باوقار ریجنل رنگ روڈ (RRR) پراجکٹ میں رکاوٹ پیدا ہوگی ۔ اس پراجکٹ کو مشترکہ طور پر حکومت تلنگانہ اور مرکز کی جانب سے 17000 کروڑ روپئے سے زائد کی تخمینہ لاگت کے ساتھ شروع کیا جارہا ہے ۔ ریجنل رنگ روڈ شہر حیدرآباد کے اطراف ایک مجوزہ سڑک ہے ۔ یہ ایک 6 ۔ لین ، 330 کلو میٹر طویل روڈ ہے جسے موجودہ روڈ نیٹ ورک میں اضافہ کرنے کے لیے تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے اور اس میں جہاں کہیں سڑک رابطہ نہیں ہے وہاں نئے اسٹریجس کا اضافہ کرتے ہوئے سڑک رابطہ فراہم کیا جائے گا ۔ اس سے حیدرآباد کے اطراف کے اضلاع کو شہر سے مربوط کرنے میں مدد ہوگی ۔ یہ گرین فیلڈ ایکسپریس وے مختلف قومی شاہراہوں اور اسٹیٹ ہائی ویز کو مربوط کرے گا ۔ اس سے متعلق ابتدائی سروے کرنے والی اس پراجکٹ کی کنسلٹنسی ایجنسی کا کہا جاتا ہے کہ یہ خیال ہے کہ اضلاع یادادری ۔ بھونگیر ، سدی پیٹ ، نلگنڈہ ، میدک اور کاماریڈی میں کالیشورم کے تحت کنالس کے باعث اس سڑک کی سیدھ میں مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے ۔ ذخائر آب بشمول ملنا ساگر ، کونڈا پوچما ساگر اور بسواپور اور رنگا نائیکا ساگر ذخائر آب ، تلنگانہ میں سب سے بڑے رنگ روڈ پراجکٹ کے لیے حصول اراضی میں بڑا چیالنج ہوسکتے ہیں ۔ ریجنل رنگ روڈ کو دو حصوں میں شروع کیا جائے گا ۔ شمالی اور جنوبی حصہ میں جس میں تلنگانہ میں زائد از 15 اضلاع کا احاطہ ہوگا ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سنگاریڈی ، نرسا پور ، توپران ، گجویل ، پرگنا پور ، جگدیو پور ، یادگیری گٹہ ، بھونگیر ، چوٹ اپل کو مربوط کرنے والے شمالی حصہ میں تعمیر کئے گئے زیادہ تر کنالس اور ذخائر آب کی وجہ کم سے کم موڑ کے ساتھ سیدھی سڑک بنانے میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مرکزی حکومت 9500 کروڑ روپئے لاگت پر ریجنل رنگ روڈ کے شمالی حصہ کو منظوری دے چکی ہے ۔ اگر اس ایکسپریس وے میں موڑ رکھنا ہو تو پھر اراضیات حاصل کرنا بڑا مسئلہ ہوگا ۔ اس کے علاوہ ذخائر آب اور کنالس میں قدرتی طور پر موجود جانوروں کا بھی تفصیلی جائزہ لینا ہوگا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ ریجنل رنگ روڈ کے نقشہ کو قطعیت دینے سے قبل کنالس اور ذخائر آب اور حصول اراضی کے چیالنجس سے متعلق تمام باتوں پر غور کیا جائے گا ۔ ذرائع نے کہا کہ کنسلٹنسی ایجنسی کی جانب سے اس کی ابتدائی رپورٹ داخل کرنے پر متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری فیصلے کئے جائیں گے ۔ پراجکٹ الائنمنٹ دو یا تین ماہ میں مکمل ہوگا اور مرکز کی جانب سے فنڈس کی اجرائی ہونے پر کام شروع کئے جائیں گے ۔۔