l پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی زبردست ہنگامہ آرائی
l حکومت مقدمہ کی فریق نہیں ، مرکزی وزیر کی وضاحت
نئی دہلی۔ 10 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس، ڈی ایم کے ، بہوجن سماج پارٹی سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے درج فہرست ذات و قبائل کے لوگوں کو ملازمتوں اور عہدہ میں ترقی میں ریزرویشن پر لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور الزام لگایا کہ جس طرح سے اس معاملہ میں اُترکھنڈ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے ہیں اس سے واضح ہے کہ حکومت اس نظام کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے وقفہ صفر میں یہ معاملہ اُٹھاتے کہا کہ اُترکھنڈ حکومت کی طرف سے ان طبقات کے لئے ریزرویشن پر سپریم کورٹ میں عرضی پر سماعت کے دوران کہاگیا کہ سرکاری ملازمتوں اور عہدہ میں ترقی میں ریزرویشن بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اُترکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور ریاستی حکومت کی طرف سے ریزرویشن پر عدالت میں یہ دلیل دی گئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں برس سے دبے کچلے ان طبقات کے لوگوں کو حکومت کو تحفظ دینا چاہئے لیکن حکومت ا سکے خلاف عدالت میں غلط دلیل دے رہی ہے ۔کانگریس کے لیڈر نے یہ معاملہ اٹھانے کے ساتھ ہی تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اس معاملہ کو اٹھایا اور کہا کہ حکومت کے ریزرویشن ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسی درمیان کانگریس رکن حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آگئے ۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی اور وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہاکہ حکومت کا اس معاملہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدلت کا معاملہ ہے اور حکومت پر ریزرویشن ختم کرنے کا اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا الزام بے بنیاد ہے ۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ یہ معاملہ 2012 ء کا ہے اور تب اُترکھنڈ میں کانگریس کی حکومت تھی۔بی ایس پی کے رتیش پانڈے نے کہاکہ حکومت ریزرویشن مخالف ہے اور اسے اس پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔ ڈی ایم کے کے اے راجہ نے کہا کہ اُترکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت ہے اور حکومت کی طرف سے اس معاملہ کی پیروی کی جارہی ہے ، اس کا جائزہ لیاجانا چاہئے ۔ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے کہاکہ حکومت سوچ سمجھ کر اس معاملہ کو اُٹھا رہی ہے ۔حکومت کی حلیف جماعت لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر چراغ پاسوان نے کہاکہ حکومت پر ریزرویشن ختم کرنے کا الزام غلط ہے ۔