نئی دہلی: مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا کے ایک اسپتال میں ایک خاتون ریزیڈنٹ ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے خلاف ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر پیر سے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں۔ اس ہڑتال کا اہتمام فیڈریشن آف آل انڈیا ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کیا ہے ۔ ریزیڈنٹ یا جونیئر ڈاکٹروں کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے پیش نظر ملک کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی خدمات میں خلل نہ پڑنے کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ تمام سینئر ڈاکٹروں کی چھٹیاں اور دورے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور انہیں متعلقہ ہاسپٹلس کے شعبہ جات میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے ۔قومی راجدھانی دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں او پی ڈی، آپریشن اور دیگر خدمات کو بحال کرنے کیلئے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔ لوک نائک اسپتال اور صفدر جنگ ہاسپٹل میں او پی ڈی، سرجری اور وارڈ کی خدمات کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا۔ صفدر جنگ ہسپتال میں میڈیکل آفیسرز، جنرل ڈیوٹی میڈیکل آفیسرز اور ماہرین کام کریں گے ۔ اساتذہ کو بھی کام کرنے کو کہا گیا ہے ۔ریزیڈنٹ ڈاکٹر نے زیادتی اور قتل کے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر کولکاتا کے متعلقہ اسپتال کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ فیڈریشن نے ڈاکٹروں کی حفاظت کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھا ہے اور مقتولہ کے معاملے میں جلد انصاف اور ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر ورکرز کیلئے حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے ۔
کولکاتا میں ڈاکٹر کے ریپ پر
یوپی میں ڈاکٹر وں کی ہڑتال
لکھنو : کولکاتا میں ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری و قتل کی واردات سے مشتعل یو پی میں ریزیڈنس ڈاکٹروں نے اپنی مخالفت درج کراتے ہوئے پیر کو کام کاز سے دور رہے ۔یوپی ریزیڈنٹ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق سبھی ڈاکٹر ایمرجنسی اور نان ایمرجنسی سبھی خدمات فراہم کرارہے ہیں۔ ہڑتال کے دوران ڈاکٹر کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہاکہ ڈاکٹروں پر مظالم بند ہوں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ کل سے ایسنشیل میڈیکل سرویس چھوڑ کر وہ لوگ پوری طرح اسٹرائیک پر رہیں گے ۔ کولکاتا کی ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے واقعہ کے بعد پورے ملک کے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں میں شدید برہمی ہے۔ پیر کو اس ہڑتال کا اثر لکھنؤ سمیت ریاست کے اہم میڈیکل اداروں اور دیگر سرکاری میڈیکل کالجوں پر پڑا۔