ریستوران مالکین انتہائی مشکل حالات کا شکار

   

لاک ڈاؤن میں ہوم ڈیلیوری سے بعض ریستوران کو کچھ راحت
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی جانب سے SWIGGY اور ZOMATOکے ذریعہ ڈیلیوری کے سبب ریستوراں کو کچھ راحت حاصل ہوئی ہے لیکن جب تک حالات معمول پر آئیں گے اس وقت تک کئی ریستوراں بند ہو جائیں گے اور جو ریستوراں کرایہ کی عمارتو ںمیں چلائے جا رہے ہیں ان کا مستقبل خطرہ میں پڑچکا ہے۔ سال گذشتہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران کئی ریستوراں مالکین نے کرایہ کی ادائیگی سے قاصر اور روزانہ کے اساس پر ہونے والے نقصانات کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد اپنی ریستوراں کو بند کردیا تھا اور دوسرے کاروبار شروع کردیئے تھے لیکن اب جبکہ دوسری لہر نے تمام تجارتی سرگرمیوں کو ٹھپ کردیا ہے ایسے میں ریستوراں مالکین کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جب تک ریاستی حکومت کی جانب سے رعایت کے ساتھ ریستوراں میں بیٹھ کرکھانے کی اجازت فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک ریستوراں کی سرگرمیاں معمول پر نہیں آسکیں گی۔ ریستوراں مالکین نے بتایا کہ اگر حکومت کی جانب سے فوری طور پر ان مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ریستوراں کو مکمل طور پر سرگرمیوں کے آغاز کی اجازت فراہم کی جاتی ہے تب بھی تمام سرگرمیاں معمول پر نہیں آسکیں گی کیونکہ شہریوں کی معاشی حالت بہتر ہونے کے بعد ہی ریستوراں کے کاروبارکی بحالی ممکن ہے اسی لئے ریاستی حکومت کو ریستوراں کے کاروبار کو بند ہونے سے بچانے کیلئے اقدامات اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے تاکہ جی ایس ٹی کی ادائیگی میں اہم کردار ادا کرنے والے اس شعبہ کو تباہ ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے۔بتایاجاتا ہے کہ ریستوراں مالکین کی جانب سے جلد ہی ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی رامار اؤ اور مسٹر ٹی ہریش راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے جی ایس ٹی ‘ برقی بل اور جائیداد ٹیکس میں رعایت فراہم کرتے ہوئے ریستوراں مالکین کو راحت فراہم کرنے کے لئے نمائندگی کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت سے نمائندگی کی جائے گی ۔