نئی دہلی: ہندوستانی ریسلنگ کمیونٹی کے لیے ایک اہم دھکا لگا ہے جیسا کہ یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ (یو ڈبلیو ڈبلیو) نے ہندوستان کی ریلسنگ فیڈریشن کو معطل کردیا ہے ۔ یہ معطلی ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے بروقت انتخابات کروانے میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کیلئے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ہندوستان کی ریسلنگ فیڈریشن، جو ملک میں کھیلوں کے خدمات کی نگرانی کرتی ہے، انتخابی تاخیرکی وجہ سے معطل کردی گئی ہے ۔ بھوپیندر سنگھ باجوہ کی قیادت میں ایڈہاک پینل کو 45 دن کی مدت کے اندر انتخابات کے انعقادکا کام سونپا گیا تھا لیکن اس انتباہ کا احترام نہیں کیا گیا، جس سے یو ڈبلیو ڈبلیو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کردیا۔ انڈین اولمپک اسوسی ایشن (ا?ئی او اے) کے ذرائع کے مطابق یو ڈبلیو ڈبلیو نے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات کرانے میں ناکامی پر ڈبلیو ایف آئی کو معطل کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانی پہلوانوں کو اب 16 ستمبر سے شروع ہونے والی اولمپک کوالیفائنگ ورلڈ چمپیئن شپ میں غیر جانبدار ایتھلیٹس کے طور پر مقابلہ کرنے کے خدشات کا سامنا ہے۔ اس معطلی کا راستہ قانونی لڑائیوں اور انتخابات سے متعلق چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس عمل کو متعدد تاخیرکا سامنا کرنا پڑا، مختلف ریاستی اداروں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انتخابات میں شمولیت کی کوشش کی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر12 اگست کو مقرر ڈبلیو ایف آئی انتخابات پر حکم امتناعی جاری کیا، جس سے مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ قانونی تنازعات وابستگیوں اور ووٹنگ کے حقوق کے گرد گھومتے تھے۔ ہریانہ ریسلنگ اسوسی ایشن نے ڈبلیو ایف آئی سے وابستگی کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات میں ہریانہ امیچور ریسلنگ اسوسی ایشن کی شرکت کا مقابلہ کیا۔ یہ مسائل عدالتوں تک پہنچ گئے، جس کی وجہ سے انتخابی عمل میں اضافی تاخیر ہوئی۔ معطلی کے اثرات گہرے ہیں۔ انتخابی معیادکو پورا کرنے میں ایڈہاک پینل کی ناکامی نہ صرف یو ڈبلیو ڈبلیو کے تعزیری اقدامات کا باعث بنی ہے بلکہ اس نے کھیل کے انتظام پر بھی سایہ ڈالا ہے۔ وہ پہلوان جنہوں نے پہلے ہندوستان کے نمائندے کے طور پر فتح حاصل کی تھی، جیسے کہ حالیہ انڈر20 ورلڈ چمپئن شپ میں ہندوستانی خواتین کی ٹیم، اب سربیا میں ہونے والی سینئر ورلڈ چمپئن شپ میں غیر جانبدار ایتھلیٹس کے طور پر مقابلہ کریں گی۔ حیثیت میں یہ تبدیلی ان کی کارکردگی کو ہندوستان کی ریسلنگ کی کامیابیوں میں حصہ اداکرنے سے نااہل قرار دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستانی پہلوانوں کے پاس اب بھی 23 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشین گیمز میں ہندوستانی پرچم کے تلے مقابلہ کرنے کا موقع ہوگا۔ تاہم عالمی چمپئن شپ میں اندراجات بھیجنے کی ذمہ داری ڈبلیو ایف آئی کی ہے اور یہ معطلی بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔علاوہ ازیں انتخابی عمل کے ارد گرد ہونے والی ہنگامہ آرائی نے ڈبلیو ایف آئی کی کارروائیوں کے اندر موجود چیلنجوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ اصل میں 7 مئی کو ہونے والے انتخابات کو اس وقت دھکا لگا جب وزارت کھیل نے اس عمل کو کالعدم قرار دے دیا۔آئی او اے نے ملک میں کھیلوں کے نظم و نسق کی نگرانی کے لیے ایک ایڈہاک پینل بناکر مداخلت کی، جس سے انتخاب کی قطعی تاریخ کو مزید طول دیا گیا۔