ریس کورس… فورتھ سٹی منتقل کرنے کی تجویز؟

   

ملک پیٹ اراضی کے طور پر دیڑھ گنا اراضی دینے کی پیشکش، حتمی فیصلہ باقی

حیدرآباد ۔ 19 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاستی حکومت شہر حیدرآباد کے شہرت یافتہ ریس کلب کی جگہ حاصل کرتے ہوئے نئے قائم ہونے والے فورتھ سٹی میں متبادل اراضی مختص کرنے کے منصوبہ بندی پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اس مسئلہ پر سرکاری سطح پر ایک سے زیادہ مرتبہ تبادلہ خیال ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ملک کے تاریخی ریس کورسیس میں حیدرآباد ریس کورس کا شمار ہوتا ہے جو ملک پیٹ علاقہ میں 168 ایکر اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ اس اراضی کے متبادل کے طور پر دیڑھ گنا اراضی دینے کی بات چیت ہورہی ہے۔ یہ تجویز ابھی زیربحث ہے اور جلد ہی قطعی فیصلہ ہوجانے کا امکان ہے۔ نظام کے دور میں 1886 میں مولاعلی میں ریس کلب کا آغاز کیا گیا۔ اس وقت کے نظام میر محبوب علی نے اسی سال اپنے قیامگاہ کے قریب ملک پیٹ میں اس کو منتقل کردیا تھا۔ 1961 کے دوران سکندرآباد میں حیدرآباد ریس کلب قائم ہوا اور ملک پیٹ ریس کی اراضی خریدتے ہوئے 1968 میں وہاں سے کام شروع کیا۔ ریسنگ، ٹریننگ، پروفیشنل کوارٹرس، پارکنگ جیسی سہولتیں فراہم کی گئی۔ بعدازاں اس کی قومی سطح کے مقابلوں کے ذریعہ شناخت بنی۔ گذشتہ پانچ دہوں سے یہ علاقہ غیرمعمولی رہا ہے۔ ملک پیٹ ریس کورس پرانے شہر کے معروف ترین علاقہ میں واقع ہے۔ موجودہ حالات میں اگر اس ریس کورس کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے تو حکومت کو امید ہے کہ اس میں مزید توسیع اور جدید سہولیات کی فراہمی کا موقع ملے گا۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر صدرنشین ریس کلب آر سریندر ریڈی کے علاوہ دیگر اہم ذمہ داروں سے بات چیت کی ہے۔ حکومت نے ملک پیٹ میں موجود اراضی کے متبادل کے طور پر دیڑھ گنا اراضی دینے کی پیشکش کی ہے۔ اس مسئلہ پر تین تا چار مرتبہ تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔ حتمی فیصلہ باقی ہے۔ اس کے علاوہ ریس کلب کے ٹرسٹی کو مشورہ دیا گیا ہیکہ وہ شمس آباد ایرپورٹ اور فورتھ سٹی کے درمیان گولف کورس کو ترقی دیں۔2