ریلوے کی سماجی خدمات پر غور کی ضرورت :گوئل

   

نئی دہلی ،4 دسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے چہارشنبہ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ ریلوے کے اخراجات میں صرف کمرشل لاگت ہی نہیں ‘‘سماجی لاگت’’ بھی ہے اور اس پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے کب تک جاری رکھ سکتے ہیں۔مسٹر گوئل نے چہارشنبہ کو وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمیمہ سوال کے جواب میں یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا‘‘وقت آ گیا ہے کہ ہم سماجی لاگت پر الگ سے غور کریں اور ہمارا سروس تناسب (لاگت اور اس سے حاصل آمدنی کا تناسب) بالخصوص کمرشل پہلوؤں کو ظاہر کرتاہے ۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم کب تک سماجی وجوہات پر خرچ کرنا جاری رکھ سکتے ہیں ’’۔ کانگریس کے گورو گوگوئی کی طرف سے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے ریلوے کے گرتے اپریٹنگ تناسب کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر گوئل نے کہا کہ ریلوے صرف کمرشل ہی نہیں سماجی خدماست بھی فراہم کرتی ہے ۔ دوردراز کے علاقوں، پہاڑی علاقوں اور دیگر دشوار گذار علاقوں میں سروس سے کبھی منافع نہیں ہوتا لیکن اس کا سماجی پہلو ہے ۔ ان خدمات کی اپنی سماجی لاگت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساتویںتنخواہ پے کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے سے ریلوے پر سالانہ 22.000کروڑ روپے کا بوجھ بڑھا ہے جو اس کی کل آمدنی کے 10 فیصد سے زیادہ ہے ۔

ہاسٹل فیس کے خلاف جے این یو ٹیچرس کا بھوک ہڑتال
نئی دہلی ۔4ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) جے این یو کے ٹیچرس اسوسی ایشن نے آج ہاسٹل فیس میں اضافہ کے خلاف ایک روزہ بھوک ہڑتال کا آغاز کیاہے ۔ جے این یو ٹیچر اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ایک بڑے بحران سے گذر رہی ہے ۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ اور وزارت فروغ انسانی وسائل اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے ۔