ریل حادثہ پر وزیر ریلوے کو مستعفی ہونا چاہئے تھا: چیف جسٹس

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد، 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے منگل کے روز ریلوے کے وزیر شیخ رشید کے گذشتہ سال ہوئے شدید ریل حادثہ پر دیئے جانے والے جواب سے اتنے ناراض ہوئے کہ ان سے استعفی دینے کی بات تک کہہ ڈالی۔چیف جسٹس گلزار احمد کی صدارت والی تین رکنی بنچ پاکستان ریلوے کی خستہ حالی پر کیس کی سماعت کر رہا ہے ۔ بنچ نے ریلوے کے کام کاج پر ریلوے وزیر سے ناراضگی ظاہر کی اور موجودہ صورت حال سے اوپر اٹھانے کیلئے دو ماہ کے اندر عدالت میں کاروباری پلاننگ جمع کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس گلزار احمد نے سماعت کے دوران ریلوے کے وزیر سے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک مسافر گاڑی میں آگ لگنے کے سلسلہ میں عدالت کو مطلع کرنے کے بارے میں کہا تھا۔ ریل میں سفر کر رہے ایک مسافر کے پاس گیس سیلنڈر تھا جس کے پھٹ جانے سے لگی آگ میں 73 مسافروں کی جل کر موت ہو گئی تھی۔چیف جسٹس نے تلخ لہجے میں ریلوے کے وزیر سے کہا‘‘آپ کو استعفیٰ سونپ دینا چاہئے ’’۔ اس پر مسٹر رشید نے کہا کہ اس معاملہ میں 75 ملازمین کو برخاست کیا گیا ہے ۔ اس پر جسٹس گلزاراحمد نے کہا‘‘گزشتہ دنوں ہمیں بتایا گیا کہ دو لوگوں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ آپ نے نچلی سطح کے ملازمین کیخلاف کارروائی کی ہے ، بڑے افسران پر کب کارروائی ہوگی اور برخاست کب ہوں گے ’’۔اس کے جواب میں مسٹر رشید نے کہا‘‘ہم اعلی سطح کے عملہ کو بھی ھٹائیں گے ’’۔ وزیر ریل کے اس جواب پر چیف جسٹس نے کہا، “ہمیں اس سمت میں قدم اٹھتے نظر نہیں آ رہے ہیں، آپ اعلی سطح کے ملازم ہیں’’۔ انہوں نے مزید کہا، “وزیر محترم، لوگوں کو خواب مت دکھائیں، آج آپ 18 ویں صدی کی ریلوے چلا رہے ہیں ، ریلوے سیکشن میں لوٹ مچی ہوئی ہے ’’۔چیف جسٹس کی اس سرزنش پر ریلوے کے وزیر نے کہا کہ وہ دن میں 18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور ریل مسافروں کی تعداد میں 70 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا‘‘2020 میں مکمل ریل محکمہ تعصب پر چل رہا ہے ’’۔قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں سماعت کے دوران پاکستان ریلوے کو ملک میں بدعنوانی کا سب سے بڑا اڈہ بتاتے ہوئے وزیر ریل، ریلوے سکریٹری اور چیف آپریٹنگ آفیسر کو جواب دینے کیلئے طلب کیا تھا۔