دبئی 21 جنوری (ایجنسیز) فلم ہنگامہ، دھوم، گول مال، پھر ہیرا پھیری، جانی غدّار اور 2000 کی دہائی کے آغاز کی کئی مشہور فلموں میں ایک اداکارہ تھی، خاتون مرکزی کردار میں ریمی سین۔ ایک وقت تھا جب ریمی سین ہرجگہ نظر آتی تھیں۔ عامر خان کے ساتھ کوکا کولا کے اشتہارات ہو یا سلمان خان کے ساتھ فلمی اسکرین شیئرکرنا، وہ اس دور کے سب سے نمایاں اور پہچانے جانے والے چہروں میں شمار ہوتی تھیں اورایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے لیے ناکامی کا کوئی تصور نہیں۔ تاہم جیسے جیسے دہائی اپنے اختتام کی جانب بڑھی، فلمی پردے پر ریمی سین کی موجودگی کم ہوتی چلی گئی۔ فلموں میں ان کی آمد محدود ہوتی گئی اور بالآ خر انہوں نے مکمل طور پر لائم لائٹ سے کنارہ کشی اختیارکر لی۔ آج ریمی سین نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک واضح اور فیصلہ کن موڑ لے لیا ہے۔ وہ اداکاری کو خیرباد کہہ کر دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرگرم ہو چکی ہیں۔ اس تبدیلی پر بات کرتے ہوئے ریمی سین نے دبئی کے ماحول اور وہاں کی کشادگی کی تعریف کی۔ بلڈ کیپس رئیل اسٹیٹ ایل ایل سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دبئی نہ صرف ان کے لیے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں، بشمول فلمی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے ایک خوش آئند اور سازگار مقام ہے۔ ریمی کے مطابق دبئی بہت خوش آمدید کہنے والا شہر ہے، اسی لیے یہاں کی 95 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے، جبکہ باقی اماراتی ہیں۔ یہاں مساجد بھی ہیں اور مندر بھی۔ یہ شہر سب کے بارے میں سوچتا ہے اور یہاں کی حکومت کی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگوں کی زندگی کو کیسے بہتر، آسان اور آرام دہ بنایا جائے۔ انہوں نے ہندوستان سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں، بے شمار ٹیکس اور پیچیدگیاں کاروباری ماحول کو مشکل بنا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ملک اب پہلے جیسا کاروبار دوست نہیں رہا۔ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کے بہتر کام کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ریمی سین نے کہا کہ دبئی میں نظم و ضبط اور واضح نظام موجود ہے۔ یہاں رئیل اسٹیٹ کا نظام اس لیے بہتر ہے کیونکہ سب کچھ ڈسپلن کے تحت ہوتا ہے۔ ایجنٹس، ایجنسیاں اور ڈیولپرز سب اپنی اپنی ذمہ داریاں واضح طور پر نبھاتے ہیں۔ ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ انہوں نے دبئی اور ہندوستان میں پراپرٹی ایجنٹس کے تصورکے فرق کی بھی نشاندہی کی۔