تلنگانہ سے ناانصافی پر بطور احتجاج بائیکاٹ کا فیصلہ، ہم خیال چیف منسٹرس سے ربط
حیدرآباد 26 جولائی (سیاست نیوز) مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف بطور احتجاج کانگریس زیر اقتدار ریاستوں کے چیف منسٹرس نیتی آیوگ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ نئی دہلی میں 27 جولائی کو نیتی آیوگ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے حقوق نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں مرکزی حکومت کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے بجٹ میں جانبداری کا الزام عائد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک، ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے چیف منسٹرس بھی نیتی آیوگ کے اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری سے قبل ترمیمات کے ذریعہ تلنگانہ کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نیتی آیوگ اجلاس کی صدارت کریں گے اور کانگریس پارٹی نے ریاست کے ساتھ انصاف کی فراہمی تک اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلگو ریاستوں سے جو وعدے کئے گئے تھے اُن کی تکمیل میں مرکزی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ آندھراپردیش کے لئے کئی اعلانات کئے گئے جبکہ تلنگانہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ تلنگانہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن، آئی آئی ایم کا قیام، پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ، بیارم اسٹیل پلانٹ اور قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیاکٹری کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ وہ ہمخیال چیف منسٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے مرکز کے خلاف جدوجہد میں تیزی پیدا کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن اور چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا سے ربط قائم کیا ہے۔ 1