ریونت ریڈی ابھی بھی چندرا بابو نائیڈو کے ڈائرکشن میں

   

سونیا گاندھی پر تنقیدوں کا ویڈیو جاری، ریاستی وزیر پرشانت ریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر عمارات و شوارع وی پرشانت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ابھی بھی تلگودیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے 2004 میں تلنگانہ کی تشکیل کا وعدہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت کی تھی بعد میں سونیا گاندھی نے اپنے وعدہ سے انحراف کرلیا۔ 2004 میں تلنگانہ کی تشکیل کا وعدہ 2014 میں مکمل ہوسکا۔ کانگریس کی جانب سے تلنگانہ کی تشکیل میں تاخیر کے نتیجہ میں اس مدت کے دوران نوجوانوں کی خودکشی کے کئی واقعات پیش آئے اور کانگریس کو اموات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ریونت ریڈی تلگودیشم میں رہے انہوں نے سینکڑوں تلنگانہ نوجوانوں کی موت کیلئے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ انہوں نے ریونت ریڈی سے سوال کیا کہ ان کے موقف میں اچانک تبدیلی کیسے آگئی۔ ریونت ریڈی جنہیں سونیا گاندھی کبھی تلنگانہ کی ہمدرد دکھائی نہیں دیتی تھیں آج انہیں دیوی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ پرشانت ریڈی نے سونیا گاندھی کے خلاف ریونت ریڈی کی جانب سے کئے گئے ریمارکس پر مشتمل ویڈیو جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں اور گریجن طبقات سے ہمدردی کیلئے کانگریس کی جانب سے شروع کردہ ڈرامہ بازی پر عوام بھروسہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60 برسوں میں کانگریس نے دلتوں کی بھلائی کیلئے کوئی توجہ نہیں دی۔ 60 برسوں میں ایک بھی دلت کو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کیوں نہیں کیا گیا۔ پرشانت ریڈی نے کہا کہ اندراولی کے جلسہ عام سے کانگریس پارٹی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ دلت اور گریجن طبقات کے سی آر حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔