حضور آباد کی شرمناک شکست پر قائدین سے ہائی کمان کی ملاقات
حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) حضور آباد کے ضمنی چناؤ میں پارٹی کی شرمناک شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے کانگریس ہائی کمان نے ریاست کے اہم قائدین کو دہلی طلب کیا ہے۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تنظیمی امور کے سی وینو گوپال نے قائدین کو کل 13 نومبر دہلی میں موجود رہنے کی ہدایت دی تاکہ حضور آباد کے نتیجہ کا جائزہ لیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی بھی اجلاس میں موجود رہیں گے اور حضور آباد میں پارٹی کے ناقص مظاہرے کی وجوہات پر بات چیت کریں گے ۔ ہائی کمان نے جن قائدین کو دہلی طلب کیا ہے ، ان میں صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر ، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا ، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر ، رکن کونسل جیون ریڈی اور حضور آباد کے انتخابی مہم میں حصہ لینے والے جملہ 13 قائدین شامل ہیں۔ کانگریس امیدوار بی وینکٹ کو پہلے ہی نئی دہلی طلب کیا گیا جہاں گزشتہ تین دن سے انہوں نے اے آئی سی سی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے حضورآباد الیکشن پر رپورٹ پیش کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وینکٹ سے اے آئی سی سی قائدین نے مہم میں حصہ لینے والے قائدین اور انتخابی ا خراجات میں تعاون کرنے والے قائدین کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ پارٹی کو اس بات پر حیرت ہے کہ حضور آباد میں تین ہزار ووٹ حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ انتخابات میں پارٹی دوسرے نمبر پر تھی۔ ضمنی چناؤ میں کانگریس امیدوار کی ضمانت بھی نہیں بچ سکی جس کے بعد ٹی آر ایس نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پار ٹی نے اپنے ووٹ بی جے پی کو منتقل کردیئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ کے انچارج مانکیم ٹیگور ایم پی بھی انتخابی مہم میں حصہ لے چکے ہیں ۔ انہوں نے بھی پارٹی ہائی کمان کو حضور آباد کی شکست پر تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ہائی کمان کی جانب سے طلبی کے بعد کئی قائدین نے اپنے اپنے طور پر رپورٹ تیار کرلی ہے جس میں شکست کی وجوہات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ر