ریونت ریڈی اور سرینواس ریڈی میں فیویکال بندھن : ہریش راؤ

   

ایک اور اراضی اسکام جلد بے نقاب کیا جائے گا، غیر قانونی مائننگ کی برسر خدمت جج سے تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ٹی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر مال پی سرینواس ریڈی کے درمیان فیویکال بندھن ہے لہذا غیر قانونی مائننگ کے معاملہ میں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں اراضی سٹلمنٹ میں دونوں کی برابر کی حصہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر غیر قانونی مائننگ کی جانچ کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوڑنگل میں لفٹ اریگیشن کا ٹنڈر سرینواس ریڈی کی کمپنی کو دیا گیا ہے۔ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ میں پانی کی سربراہی کا ٹنڈر بھی سرینواس ریڈی کے ادارہ کو الاٹ کیا گیا۔ ہریش راؤ نے اعلان کیا کہ حکومت کے ایک بڑے اراضی اسکام کو جلد ہی بے نقاب کرتے ہوئے تفصیلات جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مباحث کے دوران بی آر ایس یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے کہ سرینواس ریڈی کی کمپنی غیر قانونی مائننگ میں ملوث ہوئی ہے۔ حکومت کا دفاعی موقف بن گیا جس کے نتیجہ میں چیف منسٹر بی آر ایس پر جوابی حملہ کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے پاس الزامات کا کوئی جواب نہیں ہے لہذا وہ تحقیقات کو سی بی سی آئی ڈی کے نام پر ٹالنا چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر کی تقریر دراصل اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔ کوشک ریڈی کے معاملہ کو غیر ضروری طور پر ہوا دیتے ہوئے دلتوں کی توہین کا ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینواس ریڈی کی کمپنی کی بے قاعدگیوں کی جانچ ایوان کی کمیٹی یا پھر برسر خدمت جج کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ مائننگ ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کے خلاف جو جرمانہ عائد کیا تھا وہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ان کے بھائی پر اراضی اسکام میں ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔1