پولیس کمشنریٹس کے روبرو ریاست بھر میں آج دھرنا، ٹی آر ایس سے مفاہمت خارج ازامکان
حیدرآباد۔/15 فروری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے آج باہمی اختلافات ختم کرتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور کے سی آر حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔ ریونت ریڈی کے صدر پردیش کانگریس مقرر کئے جانے کے بعد سے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ناراض تھے کیونکہ وہ خود بھی عہدہ کے اہم دعویدار تھے۔ وینکٹ ریڈی نے گاندھی بھون میں قدم نہ رکھنے کا اعلان تک کردیا تھا۔ ریونت ریڈی نے پارٹی کے ساتھی رکن پارلیمنٹ کو پارٹی سرگرمیوں میں واپس لانے کی بارہا مساعی کی اور آج وہ سیدھے وینکٹ ریڈی کی قیامگاہ پہنچ گئے۔ کافی دیر تک دونوں قائدین کے درمیان بات چیت رہی اور بعد میں دونوں نے مشترکہ طور پر میڈیا سے خطاب کیا۔ دونوں قائدین نے بغل گیر ہوتے ہوئے تصویر کھنچوائی اور یہ ثابت کیا کہ اب کوئی اختلافات باقی نہیں رہے۔ دونوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے ساتھ مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس 90 اسمبلی اور لوک سبھا کی 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کے خلاف عوامی ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں پارٹی سینئر قائدین سے بات چیت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے تلنگانہ کیلئے وزارت کی قربانی دی جبکہ کے سی آر نے ہمیشہ سیاسی فائدہ کیلئے عہدوں سے استعفی دیا۔ انہوں نے آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما کے خلاف تلنگانہ میں مقدمات درج نہ کئے جانے پر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کے سی آر نے راہول گاندھی کے حق میں مگرمچھ کے آنسو بہائے لیکن تلنگانہ میں ایک بھی مقدمہ چیف منسٹر آسام کے خلاف درج نہیں کیا گیا جو کے سی آر کی دوہری پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات درج نہ کئے جانے پر بطور احتجاج کل 16 فروری کو ریاست کے تمام پولیس کمشنریٹ اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے دفاتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی حیدرآباد پولیس کمشنریٹ اور وینکٹ ریڈی راچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کے روبرو احتجاج میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی جانب سے فیڈرل فرنٹ اور تیسرے محاذ کے قیام کی تیاریاں دراصل نریندر مودی کے اشارے پر ہیں تاکہ کانگریس کو کمزور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کانگریس کو کمزور کرنے کی سپاری حاصل کی ہے اور وہ سپاری گینگ کے لیڈر ہیں۔ وہ کانگریس کی حلیف جماعتوں سے ربط قائم کرتے ہوئے یو پی اے کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہیں واقعی مودی کے خلاف لڑائی میں سنجیدگی ہو تو انہیں نوین پٹنائیک، کجریوال، اکھلیش یادو اور جگن موہن ریڈی جیسے قائدین سے بات چیت کرتے ہوئے محاذ تشکیل دینا چاہیئے۔ر