تلنگانہ عوام کے احترام کا وعدہ فراموش، تلنگانہ جاگروتی کی گول میز کانفرنس سے خطاب
نظام آباد: 15/ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ کی ثقافت اور شناخت پر ہونے والے حملوں کی ہر ایک کو مذمت کرنی چاہئے۔تلنگانہ تلی سے محبت نہ ہونے کی وجہ سے کانگریس کے لیڈر و چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ تلی کے مجسمہ کو تبدیل کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کے کویتا صدر تلنگانہ جاگروتی ورکن قانون ساز کونسل بی آر ایس نے کیا۔وہ تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام پریس کلب میں منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تلی کے ہاتھوں میں موجود بتکماں،تلنگانہ معاشرے کی خوبصورتی اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ تحریک اور ریاست کی تشکیل کے دوران ریونت ریڈی کہیں نظر نہیں آئے۔ اس کے برعکس، انہوں نے تلنگانہ کی تعمیر نو کے دوران کے سی آر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کیں۔ تحریک کے وقت تلنگانہ کے کارکنوں پر گولیاں چلانے والے ریونت ریڈی کو آج تلنگانہ کے ثقافتی ورثے کی توہین کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تلنگانہ تلی کی اہمیت پر اشعار اور نظموں پر مشتمل کتابیں شائع کریں گے۔ہم ریونت ریڈی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بتکماں کو اعلی ذاتوں کا تہوار قرار دینے والے بیان کو واپس لیں اور تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کریں۔انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ ریونت ریڈی نے تلنگانہ تلی کے نام پر کانگریس تلی کو پیش کیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ما قبل انتخابات گارنٹی کارڈس پر دستخط ثبت کئے تھے اور تلنگانہ عوام کے احترام کا وعدہ کیا تھا۔ عوام نے ان پر یقین کیااور کانگریس کو ووٹ دیا لیکن کانگریس نے تمام وعدوں کو فراموش کردیا۔کویتا نے کہا کہ کانگریس کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے بی سی طبقے سے تعلق رکھنے لیڈر و صدر تلنگانہ پردیش کانگرس کمیٹی مہیش کمار گوڑ کی بے عزتی پر پارٹی کوئی کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے۔