دونوں کی پد یاترا پارٹی پروگرام ، جنگاؤں میں کانگریس کی گروہ بندیاں منظر عام پر
حیدرآباد۔28۔اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے سینئر قائدین کے درمیان اختلافات سے متعلق خبروں کے بیچ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے واضح کیا کہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور ان کی جانب سے پد یاترا دراصل پارٹی کا پروگرام ہے، اسے ایک دوسرے کے خلاف مسابقتی پروگرام نہ سمجھا جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ وہ پیپلز مارچ کے نام پر پد یاترا کر رہے ہیں جبکہ ریونت ریڈی نے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو عنوان سے پد یاترا کی ہے۔ دونوں کے پروگرام پارٹی ہائی کمان کے منظورہ ہیں ، لہذا اسے اختلافات کی نظر سے دیکھا نہیں جاسکتا۔ بھٹی وکرمارکا جنگاؤں ضلع کے اسٹیشن گھن پور اسمبلی حلقہ میں یاترا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مقامی افراد سے ملاقات کرنے کیلئے رچہ بنڈہ پروگرام کا اہتمام کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے صرف کے سی آر خاندان کو فائدہ پہنچا جبکہ عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ جو ایک مالدار ریاست تھی، اسے کے سی آر خاندان نے لوٹ لیا ہے ۔ سابق میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے پد یاترا کے ذریعہ متحدہ آندھرا پردیش میں اندراماں راج قائم کرتے ہوئے وعدوں کی تکمیل کی تھی۔ کانگریس ہائی کمان نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں، انہیں برسر اقتدار آنے پر مکمل کیا جائے گا۔ بھٹی وکرامارکا نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کی فلاحی اسکیمات میں بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ بھٹی وکرامارکا کی پد یاترا کے موقع پر جنگاؤں اسمبلی حلقہ میں مقامی کانگریس قائدین کے درمیان اختلافات دیکھے گئے ۔ سابق وزیر پونالہ لکشمیا اور سابق رکن اسمبلی کے پرتاپ ریڈی کے حامیوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ بھٹی وکرامارکا نے دونوں گروپس کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ کانگریس میں ڈسپلن شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پونالہ لکشمیا کی قیامگاہ پر اجلاس منعقد کرنے سے دوسرا گروپ ناراض تھا۔ر