ریونت ریڈی سے کوئی اختلاف نہیں: کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی

   

پارٹی کے استحکام کیلئے ملکر کام کروں گا، کے سی آر حکومت ہٹلر سے بدتر

حیدرآباد۔/8 اگسٹ، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کا عہدہ نہ ملنے سے ناراض رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے ان کے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے وہ ریونت ریڈی کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پردیش کانگریس کی صدارت کیلئے ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا جس سے انہیں ٹھیس پہنچی اور انہوں نے ناراضگی میں کچھ بیان دیا تھا اب وہ پارٹی کے استحکام پر توجہ دیں گے اور صدر پردیش کانگریس کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔ انہوں نے تلنگانہ میں کے سی آر کی حکمرانی کو ڈکٹیٹر شپ سے تعبیر کیا اور کہا کہ اگر ہٹلر زندہ ہوتے تو وہ کے سی آر کو دیکھ کر رو پڑتے کیونکہ کے سی آر ہٹلر سے بھی آگے ہیں۔ صرف گجویل، سدی پیٹ اور سرسلہ کی ترقی پر چیف منسٹر نے توجہ مرکوز کی ہے اور دیگر علاقوں کو نظرانداز کردیا۔ دولتمند ریاست کے نام پر تلنگانہ کو مقروض بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھونگیر پارلیمانی حلقہ کی ترقی اور مسائل کی یکسوئی کی صورت میں وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بھونگیر کو ترقی دے تو وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیںگے اور اس کے لئے باؤنڈ پیپر پر لکھنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ وینکٹ ریڈی نے چوٹ اوپل منڈل میں کانگریس کارکنوں کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹرس کو حکومت کی جانب سے 1350 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ کئی کنٹراکٹرس حکومت کے رویہ سے ناراض ہوکر خودکشی پر مجبور ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت نے انہیں بحران میں مبتلاء کردیا ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کوئی بھی کنٹراکٹر سرکاری کام انجام دینے کیلئے تیار نہیں۔ موسی ندی کی ترقی اور اس کی صفائی و خوبصورتی کے مسئلہ پر وہ پارلیمنٹ میں مرکز کو توجہ دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ دلتوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے والے چیف منسٹر کابینہ میں دلت طبقہ کو نمائندگی دے کر دکھائیں۔ دلت بندھو اسکیم کا مقصد حضورآباد میں کامیابی حاصل کرنا ہے اور عمل آوری سے حکومت کوکوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر اپوزیشن ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے حلقہ جات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔