ریونت ریڈی و تلنگانہ قائدین کی راہول گاندھی اور کھرگے سے ملاقات

   

کابینہ میں توسیع، پی سی سی عاملہ اور نامزد عہدوں پر تقررات پر مشاورت، قائدین سے انفرادی رائے حاصل کی گئی
ریاستی کابینہ میں عنقریب توسیع کا امکان

حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کابینہ میں توسیع، پردیش کانگریس عاملہ کی تشکیل اور نامزد عہدوں پر تقررات جیسے اُمور پر کانگریس ہائی کمان نے آج تلنگانہ قائدین سے مشاورت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے آج رات نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں صدر کانگریس ملکارجن کھرگے، قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینو گوپال سے تقریباً دیڑھ گھنٹہ تک بات چیت کی۔ اس موقع پر تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن بھی موجود تھیں۔ باوثوق ذرائع کے بموجب پارٹی ہائی کمان نے کابینہ کی 6 مخلوعہ نشستوں پر سماجی انصاف کے مطابق نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔ امکانی وزراء کے ناموں کے بارے میں تلنگانہ قائدین کی رائے حاصل کی گئی۔ ناموں کو قطعی منظوری ہائی کمان دے گا جس کے بعد تقریب حلف برداری ہوگی۔ پردیش کانگریس کی عاملہ کی جلد تشکیل اور نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پارٹی قائدین میں ناراضگی دور کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی اور کھرگے نے بی سی تحفظات اور ایس سی زمرہ بندی کے علاوہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ذرائع کے مطابق کابینہ میں جلد توسیع کی جائے گی تاہم بعض وزراء یا اُن کے قلمدانوں میں تبدیلی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ تمام اُمور کے بارے میں عنقریب فیصلے کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہاکہ تعلیم، صحت اور انٹیگریٹیڈ اسکولس کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئیں۔ حکومت کی کارکردگی اور خاص طور پر وزراء اور محکمہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ کے مطابق عنقریب تمام اُمور پر قطعی فیصلہ ہوگا۔ چیف منسٹر اور دوسرے قائدین کی دہلی واپسی کے ساتھ ہی وزارت میں شمولیت کے دعویداروں کی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر رات میں حیدرآباد واپس ہوگئے جبکہ چیف منسٹر کل منگل کو واپس ہوں گے۔ ہائی کمان سے ملاقات پر پارٹی میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ وزارت میں توسیع کے مسئلہ پر قائدین سے انفرادی رائے حاصل کی گئی۔1