ریونت ریڈی کانگریس کے صرف ٹیکنیکل چیف منسٹر

   

اُن کا دل آج بھی تلگودیشم کیلئے دھڑکتا ہے ۔ ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد ۔ 2 جولائی ۔ ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریونت ریڈی ٹیکنیکل طورپر کانگریس کے چیف منسٹر ہے مگر اُن کا دل و دماغ تلگودیشم پارٹی میں ہونے کا الزام عائد کیا ۔ آج بی آر ایس کے ہیڈکواٹر تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے دورِ حکومت میں بنکا چرلہ پراجکٹ ہی نہیں تھا، اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پڑوسی ریاستی آندھراپردیش میں تعمیر ہونے والے اس پراجکٹ کیلئے سابق بی آر ایس حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور چیف منسٹرکو اُن کے اپنے ناپاک عزائم میں ہرگز کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ تلگودیشم پارٹی میں اپنے باس (چندرابابو نائیڈو ) کے بیاگ اُٹھانے والے ریونت ریڈی بیاڈمین کی حیثیت سے مشہور ہوئے تھے ۔ وہ فی الوقت تکنیکی طورپر کانگریس کے چیف منسٹر ہیں لیکن آج بھی اُن کا دل تلگودیشم کیلئے تڑپتا ہے ۔ تلگودیشم کے طالب علم ریونت ریڈی نے 6 جولائی 2024 ء کو پرجا بھون میں آندھراپردیش کے چیف منسٹر اپنے باس چندرابابو نائیڈو کو بریانی کھلاتے ہوئے بنکا چرلہ پراجکٹ کی تعمیر کیلئے خفیہ معاہدہ کیا ہے جو آج تلنگانہ کیلئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔ 13 ستمبر 2024 ء کو وزیر آبپاشی اُتم کمار ریڈی اپنی شریک حیات کے ساتھ وجئے واڑہ پہونچکر چندرابابو نائیڈو سے ملاقات کی اور بنکا چرلہ پراجکٹ کیلئے مکمل تائید کی ہے ۔ جس کے بعد 15 نومبر 2024 ء کو اے پی ۔ بی بی لنک کو تعاون کرنے کی چیف منسٹر آندھراپردیش نے مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ اس کے فوری بعد 31 ڈسمبر 2024 ء کو چندرابابو نائیڈو نے مرکزی وزیر فینانس کو ایک اور مکتوب روانہ کرتے ہوئے پراجکٹ کی تعمیر کیلئے 80 ہزار کروڑ روپئے کی مالی امداد دینے کی اپیل کی ۔ 2