ریونت ریڈی کو رچہ بنڈہ پروگرام میں شرکت سے روکنے گھر پر محروس کردیا گیا

   

قیامگاہ پر پولیس تعینات، عہدیداروں پر ریونت ریڈی کی برہمی، کارکنوں کے احتجاج سے کشیدگی
حیدرآباد۔31۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو بھوپال پلی میں کسانوں کے رچہ بنڈہ پروگرام میں شرکت سے روکنے کیلئے پولیس نے آج دوسری مرتبہ انہیں گھر پر محروس کردیا۔ رات دیر گئے پولیس کی بھاری جمیعت ریونت ریڈی کے قیام کے اطراف تعینات کردی گئی اور صبح کے وقت بعض پولیس ملازمین ان کی قیامگاہ میں داخل ہوگئے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ ریونت ریڈی قیامگاہ پر موجود ہیں یا نہیں۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ریونت ریڈی کو پولیس نے ہاوز اریسٹ رکھا ہے۔ جوبلی ہلز میں واقع ان کی قیامگاہ پر ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب کانگریس قائدین اور کارکنوں نے پولیس کے رویہ کے خلاف احتجاج کیا۔ گزشتہ ہفتہ میدک کے ایراولی میں رچہ بنڈہ پروگرام میں شرکت سے روکنے کیلئے ریونت ریڈی کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ریونت ریڈی جیسے ہی صبح میں بھوپال پلی جانے کی تیاری کر رہے تھے، انہیں پولیس کی موجودگی کی اطلاع دی گئی۔ وہ اپنی قیامگاہ سے باہر آئے اور پولیس پر برہم ہوگئے۔ انہوں نے اجازت کے بغیر پولیس ملازمین کے قیامگاہ میں داخل ہونے پر ناراضگی جتائی اور کہا کہ کس عہدیدار نے پولیس کو مکان میں داخل ہونے کی ہدایت دی ہے۔ ریونت ریڈی نے وہاں موجود پولیس عہدیداروں سے کئی سوالات کئے لیکن وہ جواب دینے کے موقف میں نہیں تھے ۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انہیں ہاؤز اریسٹ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے برہمی کے عالم میں بعض عہدیداروں سے فون پر بات کی۔ عہدیداروں نے واضح کردیا کہ کورونا قواعد کے پیش نظر ریاست بھر میں کسی بھی عوامی پروگرام کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایک گھنٹہ سے زائد ریونت ریڈی نے بھوپال پلی روانگی کی کوشش کی ۔ اسی دوران پارٹی کے سینئر قائدین محمد علی شبیر ، ملو روی ، انجن کمار یادو اور دوسرے وہاں پہنچ گئے اور پولیس پر برہمی کا اظہار کیا ۔ ریونت ریڈی نے ٹوئیٹر پر ویڈیو وائرل کیا جس میں انہیں پولیس عہدیداروں سے بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ریونت ریڈی نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ تلنگانہ میں ڈکٹیٹر رول جاری ہے۔ کسانوں سے ملاقات سے روکنے کیلئے دوسری مرتبہ پولیس کو میری قیامگاہ پر تعینات کیا گیا ۔ انہوں نے لکھا کہ یہ تلنگانہ ہے یا پھر افغانستان یا نارتھ کوریا ؟ ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام ڈکٹیٹرشپ کو مسترد کردیں گے ۔ ایک اور ٹوئیٹ میں ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ کسانوں سے ملاقات کیا جرم ہے ؟ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی کے پاس شادی و دیگر تقاریب کیلئے گھنٹوں وقت نکال رہے ہیں لیکن انہیں کسانوں سے ملاقات کیلئے وقت نہیں ہے ۔ کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیرا نے ٹوئیٹر پر تلنگانہ حکومت پر تنقید کی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر کانگریس پارٹی سے خوفزدہ کیوں ہیں۔ ریونت ریڈی اور کانگریس پارٹی کو عوام کی آواز اٹھانے سے روکا نہیں جاسکتا۔ واضح رہے کہ 27 ڈسمبر کو پولیس نے ریونت ریڈی کو ایرا ولی جانے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا۔ ر