جگہ جگہ ہزاروں افراد نے استقبال کیا، کانگریس قائدین کی پولیس سے بحث و تکرار
حیدرآباد۔/12اکٹوبر، ( سیاست نیوز) طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کے جلسہ میں شرکت کیلئے محبوب نگر جانے والے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو پولیس کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے علاوہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا اور تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ کو بھی جڑچرلہ میں پولیس نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ ریونت ریڈی آج صبح گاڑیوں کے قافلہ کے ذریعہ محبوب نگر روانہ ہوئے جہاں امستا پور میں جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ریونت ریڈی کے قافلہ کا جگہ جگہ عوام کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔ شاد نگر، بالانگر اور جڑچرلہ میں ہزاروں عوام نے ریونت ریڈی کا استقبال کرکے گلپوشی کی ۔ کئی کیلو میٹر تک ریونت ریڈی گاڑی پر سوار رہے اور حامیوں کے استقبال کا جواب دیا۔ جڑچرلہ میں کرین کے ذریعہ طویل قامت پھولوں کے ہار سے ریونت ریڈی کی گلپوشی کی گئی۔ محبوب نگر کے راستہ میں جگہ جگہ کانگریس کے بیانرس اور کٹ آؤٹس لگائے گئے تھے۔ عوامی استقبال کا جواب دیتے ہوئے آگے بڑھنے والے ریونت ریڈی اور دیگر قائدین کو جڑچرلہ میں پولیس نے روک لیا۔ سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے گاڑیوں کو روک دیا گیا۔ اس سلسلہ میں پولیس سے وضاحت طلب کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ریالی کی شکل میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جڑچرلہ چوراہے پر کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان بحث و تکرار ہوئی اور کارکنوں نے پولیس کی رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے گاڑیوں کو آگے بڑھایا۔ محبوب نگر کے راستہ میں پولیس نے کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے پہنچنے والی گاڑیوں کو روک دیا۔ کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ پولیس جلسہ عام میں عوام کی بھاری تعداد میں شرکت کو روکنے کیلئے گاڑیوں کو واپس جانے پر مجبور کررہی ہے۔ر