کے ٹی آر کی راست نگرانی ، کاما ریڈی سے مقابلہ پر بی آر ایس میں ہلچل
حیدرآباد ۔27۔اکتوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس نے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف ریونت ریڈی کے امکانی مقابلہ کو دیکھتے ہوئے کوڑنگل پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ صدر پردیش کانگریس کو اس حلقہ سے شکست دی جاسکے۔ واضح رہے کہ کانگریس ہائی کمان نے کوڑنگل کے علاوہ کاما ریڈی سے ریونت ریڈی کو میدان میں اتارنے کی تیاری کرلی ہے تاکہ چیف منسٹر کو دیگر حلقہ جات میں انتخابی مہم سے روکا جاسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی آر ایس نے جوابی حکمت عملی کے تحت ’’مشن کوڑنگل‘‘ کے تحت ریونت ریڈی کو گھیرنے کی تیاری کرلی ہے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راو کوڑنگل میں پارٹی کی انتخابی مہم کی راست نگرانی کریں گے ۔ انہوں نے سینئر عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی ہے جس میں کوڑنگل کے مقامی قائدین کو شامل کیا گیا جو ہر سطح پر ریونت ریڈی کی ناکامیوں کی عوام میں تشہیر کریں گے۔ کے ٹی راما راؤ روزانہ کوڑنگل کی انتخابی مہم کا جائزہ لیں گے اور وقتاً فوقتاً خود بھی کوڑنگل کا دورہ کریں گے۔ حال ہی میں ریاستی کابینہ میں شامل کئے گئے وزیر پی مہیندر ریڈی زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے بی آر ایس امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ پارٹی نے مہیندر ریڈی کے بھائی پی نریندر ریڈی کو ریونت ریڈی کے خلاف امیدوار بنایا ہے۔ نریندر ریڈی دیہی سطح پر گاؤں گاؤں پہنچ کر انتخابی مہم کا آغاز کرچکے ہیں جبکہ مہیندر ریڈی حلقہ کے اہم قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کوڑنگل میں سرکاری اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی فہرست تیار کی گئی ہے تاکہ گھر گھر پہنچ کر ان سے ربط قائم کیا جاسکے۔ سینئر قائدین ہر استفادہ کنندہ کے خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کریں گے۔ کوڑنگل کی سطح پر خصوصی سوشیل میڈیا ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ریونت ریڈی کے خلاف درکار مواد وائرل کرے گی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریونت ریڈی کو کاما ریڈی کے بجائے کوڑنگل تک محدود کرنے کی منصوبہ بندی کیلئے مشن کوڑنگل کو قطعیت دی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ کوڑنگل کے تحت 8 منڈلوں میں مجالس مقامی کے نمائندوں کی اکثریت کا تعلق بی آر ایس سے ہے لیکن حال ہی میں مدور اور کتہ پلی سے تعلق رکھنے والے مقامی نمائندوں نے بی آر ایس سے انحراف کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جس طرح کے سی آر کیلئے گجویل اور کاما ریڈی سے مقابلہ چیلنج بن چکا ہے ، اسی طرح ریونت ریڈی کے لئے کوڑنگل سے کامیابی وقار کا مسئلہ بن جائے گی۔ ریونت ریڈی نے 2009 اور 2014 ء میں تلگو دیشم کے ٹکٹ پر کوڑنگل سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2018 ء اسمبلی چناؤ میں ریونت ریڈی نے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا اور بی آر ایس امیدوار پی نریندر ریڈی سے 9319 ووٹ سے شکست کھا گئے تھے۔ بی آر ایس نے دوبارہ نریندر ریڈی کو ٹکٹ دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بی آر ایس کا مشن کوڑنگل کس حد تک کامیاب رہے گا۔